LIVE
Loading Breaking News...

اٹلی میں میوزیم سے نشاۃ ثانیہ کے قیمتی فن پارے چوری

News Image
اٹلی کے ایک میوزیم میں تعطیلات کے دوران نامعلوم چوروں نے دھاوا بول کر نشاۃ ثانیہ کے دور کے نایاب اور قیمتی فن پاروں کو چرا لیا۔ نو کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ان فن پاروں کی چوری سے عالمی سطح پر آرٹ کی دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اٹلی کے ایک عجائب گھر میں تعطیلات کے پرسکون ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پیشہ ور چوروں نے ایک بڑی واردات کو انجام دیا ہے، جہاں سے نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے دور کے چار انتہائی نایاب اور تاریخی فن پارے چوری کر لیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ چوری سسلی کے ایک مقامی میوزیم میں ہوئی، جو کہ معروف مصور انتونیلو دا میسینا کا آبائی شہر بھی ہے۔ اس سنسنی خیز واردات کے بعد ملک بھر میں کہرام مچ گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چوری ہونے والے ان چاروں شاہکاروں کی بین الاقوامی مارکیٹ میں تخمینی مالیت 92 ملین ڈالر یعنی کروڑوں روپے بنتی ہے۔ ان فن پاروں کو آرٹ کی دنیا میں 'غیر معمولی' اور تاریخی ورثے کا درجہ حاصل تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کی گمشدگی کو اٹلی کے ثقافتی ورثے پر ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی واردات کسی منظم گروہ کا کام معلوم ہوتی ہے جو غالباً پہلے سے اس تمام کارروائی کی مکمل ریکی اور منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ پولیس اور سکیورٹی ادارے اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا میوزیم کے سکیورٹی نظام میں کوئی اندرونی ملی بھگت تھی یا پھر چوروں نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے الارم سسٹمز کو ناکارہ بنایا۔ میوزیم کے حکام اور مقامی انتظامیہ اس دلخراش واقعے پر شدید صدمے میں ہیں کیونکہ یہ فن پارے نہ صرف مالی اعتبار سے قیمتی تھے بلکہ علاقے کی ثقافتی شناخت کا بھی ایک اہم حصہ تھے۔ حکومت اور ثقافتی امور کی وزارت نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مجرموں کی فوری گرفتاری اور چوری شدہ فن پاروں کی بازیابی کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔ سسلی کے اس میوزیم میں پیش آنے والے اس سنسنی خیز واقعے نے ایک بار پھر دنیا بھر کے عجائب گھروں کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ آرٹ کے قدردانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔