LIVE
Loading Breaking News...

آئی فون فراڈ سکینڈل: ایف بی آر اور کسٹم کے خلاف ملک گیر انکوائری کا حکم

News Image
وفاقی ٹیکس محتب نے آئی فون کی درآمد اور کلیئرنس میں مبینہ منظم فراڈ کا نوٹس لیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو جامع تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ ایف ٹی او نے کسٹم حکام اور کوریئر سروس کی مبینہ ملی بھگت سے ہونے والی ان بدعتیوں پر ملک گیر انکوائری کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی ٹیکس محتب (ایف ٹی او) نے آئی فون کی درآمد اور کلیئرنس کے دوران ایک بڑے اور منظم فراڈ کا انکشاف کیا ہے، جس کے بعد اس معاملے پر ملک گیر سطح پر تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ ایف ٹی او نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو سخت احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ کوریئر کمپنیوں، کسٹم حکام اور دیگر متعلقہ افراد کے مبینہ کردار کا باریک بینی سے جائزہ لے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس نوعیت کے دیگر فراڈ ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہوئے ہیں یا نہیں۔ وفاقی ٹیکس محتب ظفر حجازی کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ ایک ایسے مربوط منصوبے کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے ایک قانونی خریدار کو اس کے تمام ٹیکس ادا کرنے کے باوجود ڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک اس کے قیمتی موبائل فون سے محروم رکھا گیا۔ یہ شکایت محمد نوشیروان خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی جنہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی بہن نے دسمبر 2024 میں کینیڈا سے فیڈرل ایکسپریس (فیڈ ایکس) کے ذریعے انہیں آئی فون 16 پلس بھیجا تھا۔ کراچی پہنچنے کے بعد انہوں نے پی ٹی اے کے تمام واجبات اور ٹیکسز کی مد میں ایک لاکھ اڑتیس ہزار سے زائد رقم جمع کروائی، لیکن اس کے باوجود فون انہیں موصول نہیں ہوا۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر جعلی اتھارٹی لیٹر استعمال کرکے یہ قیمتی ڈیوائس کسی اور شخص کے حوالے کر دی گئی تھی۔ سماعت کے دوران کسٹم حکام کا موقف تھا کہ موبائل فون اصل ڈیٹینشن ریسیپٹ، انوائس اور دیگر دستاویزات کی تصدیق کے بعد ایک کلیئرنگ ایجنٹ کے حوالے کیا گیا تھا۔ تاہم، محتب نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ اصل درآمدی دستاویزات پر بحیثیت کنسائنی درج ہونے والے شہری کو ذاتی طور پر پیش ہونے کے باوجود سامان کی ملکیت سے کیوں محروم رکھا گیا۔ تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹریکنگ ریکارڈ میں نام تو اصلی خریدار کا رہا لیکن ائیر وے بل اور انوائس میں پتہ اور رابطہ نمبر تبدیل کر دیے گئے تھے۔ ایف ٹی او کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ردو بدل ایک سوچی سمجھی سازش اور منظم فراڈ کی نشاندہی کرتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ شکایت کنندہ نے بعد میں محتب کو مطلع کیا کہ اس کا ذاتی تنازعہ حل ہو چکا ہے، لیکن عوامی مفاد کے تحفظ اور اس نوعیت کے جرائم کے سدباب کے لیے ادارے نے وسیع تر مفاد میں اس کی ملک گیر سطح پر تحقیقات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف ٹی او نے ایف بی آر کو سفارش کی ہے کہ چیف کلکٹر کسٹم (ایئرپورٹس) کو ہدایت کی جائے کہ وہ فیڈ ایکس کے خلاف ہدف بند انکوائری شروع کرے، جنوری 2025 سے جون 2026 تک کے کوریئر امپورٹ کا ڈیٹا حاصل کرے تاکہ اس جیسے دیگر کیسز کا بھی سراغ لگایا جا سکے اور اس گھناؤنے کھیل میں ملوث تمام سرکاری و غیر سرکاری عناصر کے خلاف سخت تادیبی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔