LIVE
Loading Breaking News...

کمبوڈیا کی ٹونلے ساپ جھیل میں مہنگائی سے بچوں کی تعلیم متاثر

News Image
کمبوڈیا کی مشہور جھیل ٹونلے ساپ پر توانائی اور ایندھن کی بلند قیمتوں نے تعلیمی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ خاندانوں کا گزر بسر مشکل ہونے کی وجہ سے معصوم بچے سکول چھوڑنے اور روزگار کمانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
کمبوڈیا کی مشہور اور بڑی ٹونلے ساپ جھیل پر بسنے والے خاندان ان دنوں شدید معاشی بحران کا شکار ہیں، جس نے براہ راست بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دنیا بھر میں توانائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات اب اس خطے تک بھی پہنچ چکے ہیں، جہاں روزمرہ کی زندگی مکمل طور پر جھیل اور کشتیوں پر منحصر ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے ماہی گیری اور نقل و حرکت کے اخراجات آسمان کو چھونے لگے ہیں، جس کا بوجھ غریب والدین اٹھانے سے قاصر ہیں۔ اس سنگین صورتحال کا سب سے بڑا نقصان بچوں کی تعلیم کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ جھیل کے ارد گرد رہنے والے بہت سے خاندانوں نے اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھا لیا ہے تاکہ وہ روزگار کے حصول میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹا سکیں۔ ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے گھر کے بجٹ کو تباہ کر رہے ہیں، اور پیٹ بھرنے کی مجبوری نے تعلیم کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ بچوں کی ایک بڑی تعداد اب باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے مختلف چھوٹے موٹے کاموں میں جت گئی ہے تاکہ خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کیا جا سکے۔ مقامی سماجی حلقوں اور ماہرین تعلیم نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کے بحران پر قابو نہ پایا گیا اور غریب خاندانوں کی مالی معاونت نہ کی گئی، تو پوری ایک نسل تعلیم سے محروم رہ جائے گی۔ ٹونلے ساپ جھیل کے یہ بچے پہلے ہی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار تھے، اور اب موجودہ مہنگائی نے ان کے خوابوں کو مزید دھندلا دیا ہے۔ عالمی برادری اور مقامی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ ان معصوم بچوں کے تعلیمی مستقبل کو بچایا جا سکے۔