LIVE
Loading Breaking News...

لائسنس پلیٹ اور موبائل فون لنکینگ ٹیکنالوجی پرائیویسی کے لیے خطرہ

News Image
فلاک کی طرح ایک اور نئی نگرانی کی ٹیکنالوجی آنے والی ہے جو گاڑیوں کے لیسنس پلیٹس کو براہ راست موبائل فونز سے منسلک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نئی پیشرفت سے شہریوں کی ذاتی پرائیویسی کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
امریکہ میں فلاک کے نیشل نیٹ ورک کی جانب سے لائسنس پلیٹ ریڈرز کے استعمال اور اس کے ممکنہ غلط استعمال پر پہلے ہی عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے، تاہم پرائیویسی سے متعلق فکر مند افراد کے لیے مزید بری خبر سامنے آئی ہے۔ اب ایک ایسی نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے جو گاڑیوں کی لائسنس پلیٹس کو براہ راست عام شہریوں کے سمارٹ فونز کے ساتھ منسلک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل نگرانی کے دائرہ کار کو انتہائی وسیع کر دے گا اور عام آدمی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا نیا دروازہ کھولے گا۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ناصرف گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے گی بلکہ اسے موبائل فون کے ڈیٹا کے ساتھ مطابقت دے کر افراد کی ذاتی معلومات اور روزمرہ کے معمولات تک رسائی حاصل کرنا بھی ممکن ہو جائے گا۔ اگرچہ اس نظام کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی، تاہم سول سبت کی تنظیموں اور ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے شہری آزادیوں سلب ہونے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔ ماضی میں فلاک نیٹ ورکس کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازعات نے پہلے ہی عوام کو خبردار کر دیا ہے کہ کس طرح سرکاری اور نجی ادارے نگرانی کے نام پر عام شہریوں کے کوائف اکٹھے کرتے ہیں۔ اب فونز اور لائسنس پلیٹس کے اس نئے ممکنہ ربط سے ریاست اور کارپوریٹ سیکٹر کے پاس شہریوں کی نگرانی کے لیے مزید طاقتور ہتھیار آ جائے گا۔ قانون دان اور پرائیویسی کے حامی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس طرح کی ٹیکنالوجیز کے نفاذ سے پہلے سخت ضابطہ اخلاق اور قانونی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تاکہ عام آدمی کی ذاتی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کے تجارتی اور سرکاری استعمال کے حوالے سے مزید مباحث متوقع ہیں۔ جیسے جیسے یہ سسٹمز عام ہوں گے، عوامی سطح پر اس کے خلاف مزاحفت اور قانونی چارہ جوئی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ پرائیویسی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے حکومتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ کیے بغیر ایسی ٹیکنالوجیز کے استعمال کو سختی سے ریگولیٹ کریں تاکہ نگرانی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکا جا سکے۔