LIVE
Loading Breaking News...

پروٹون کے اندر نیا گلوآن اسٹرکچر دریافت، سائنسی دنیا میں ہلچل

News Image
سائنسی ماہرین نے پروٹون کے اندرونی حصوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک نئے گلوآن ڈھانچے کا انکشاف کیا ہے۔ یہ تحقیق مادے کی بنیادی خصوصیات کے بارے میں نصابی کتب کو تبدیل کر سکتی ہے۔
ماہرین طبیعیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے پروٹون کے اندر ایک ایسا پوشیدہ ڈھانچہ دریافت کیا ہے جو مادے کی بنیادوں کو سمجھنے کے انداز کو یکسر بدل سکتا ہے۔ اس نئی تحقیق کے مطابق، پروٹون کے اندر موجود بنیادی خصوصیات کو برقرار رکھنے میں ایک خاص اور اب تک پوشیدہ گلوآن کا کردار سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافت فزکس کے شعبے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی اور اس سے کائنات کے بنیادی ذرات کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ ہوگا۔ امریکہ میں واقع ریلیٹیوسٹک ہیوی آئن کولائیڈر یعنی آر ایچ آئی سی (RHIC) کے تجرباتی ڈیٹا سے یہ اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ محققین نے کولژن ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ باریون نمبر صرف تین کوارکس کے ذریعے ہی نہیں بلکہ گلوآنز کے ایک وائی (Y) شکل کے جنکشن کے ذریعے بھی آگے بڑھتا ہے جو ان ذرات کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ مظہر پہلے اتنی واضح طور پر سامنے نہیں آ سکا تھا، لیکن جدید ٹیکنالوجی اور بہتر ڈیٹا تجزیے کی وجہ سے اب اس کی تصدیق ممکن ہو گئی ہے۔ سائنسی برادری میں اس دریافت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ طویل عرصے سے قائم نظریات کو ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ پروٹون کے مطالعے پر دہائیوں سے کام جاری ہے، لیکن گلوآنز کی اس پیچیدہ جیومیٹری اور ساخت نے محققین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے انکشاف کے بعد طبیعیات کی نصابی کتب کو از سر نو لکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ طلباء اور محققین کو مادے کی حقیقی اندرونی ساخت سے روشناس کرایا جا سکے آگے چل کر اس پر مزید تجربات کیے جائیں گے۔