LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی کے دور میں کامیابی کے لیے اہم ترین مہارت - BCG

News Image
بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (BCG) کے شمالی امریکہ کے سربراہ میل وولف گینگ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں جنرلسٹ اور تجارتی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے غلبے کے باوجود کاروباری فہم اور مسائل کو حل کرنے کی بنیادی صلاحیتیں اب بھی ناگزیر ہیں۔
بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (BCG) کے شمالی امریکہ کے سربراہ میل وولف گینگ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے اس تیز رفتار دور میں مستقبل کے کنسلٹنٹس ماضی کے لوگوں کی طرح ہی نظر آ سکتے ہیں، جو کہ جنرلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط کاروباری سوجھ بوجھ رکھتے ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب آ چکا ہے اور اے آئی ٹولز نے کام کرنے کے طریقوں کو یکسر بدل دیا ہے، اس کے باوجود بنیادی انسانی صلاحیتیں اور تجارتی فہم اپنی اہمیت نہیں کھو بیٹھے ہیں۔ میل وولف گینگ کے مطابق، آج کے کاروباری ماحول میں کمپنیوں کو ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو صرف ایک خاص تکنیکی شعبے تک محدود نہ ہوں بلکہ وہ وسیع تر کاروباری تناظر کو سمجھ سکیں۔ مصنوعی ذہانت کے ٹولز ڈیٹا کا تجزیہ اور پیچیدہ حساب کتاب تو بہت کم وقت میں کر سکتے ہیں، لیکن کسی بھی ادارے کی حقیقی ضروریات کو سمجھنا، کلائنٹس کے ساتھ موثر رابطہ قائم کرنا اور تخلیقی حل تلاش کرنا اب بھی انسانی عقل اور تجربے کا محتاج ہے۔ مزید برآں، یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کنسلٹنگ فرمز اب ایسے امیدواروں کو ترجیح دے رہی ہیں جو اے آئی کے دور میں اس ٹیکنالوجی کو اپنے روزمرہ کے کاموں میں مؤثر طریقے سے ضم کر سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنرلسٹ اپروچ اور کاروباری بصیرت کے ساتھ ساتھ اے آئی ٹولز کا بنیادی استعمال جاننا بھی اب ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ فرمز اپنے ملازمین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر رہی ہیں تاکہ وہ روایتی مشاورتی کاموں کو نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید بہتر بنا سکیں۔ آخر میں، ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ اے آئی جتنا بھی ترقی کر لے، کاروباری حکمت عملی اور فیصلہ سازی میں انسانی جبلت کا نعم البدل کوئی نہیں ہو سکتا۔ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کا کامیاب پروفیشنل وہ ہوگا جو جدید ٹیکنالوجی کو اپنی روایتی کاروباری صلاحیتوں کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ کر سکے۔