LIVE
Loading Breaking News...

ای ایس آئی سی سرپلس میں کمی، اخراجات بڑھنے کا خدشہ

News Image
مالیاتی اور ایکچوریل تخمینوں کے مطابق ملازمین کی ریاستی بیمہ کارپوریشن (ای ایس آئی سی) کے فوائد اور طبی اخراجات میں اضافے کی وجہ سے آئندہ چار برسوں میں اس کی کنٹریبیوشن آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔ کارپوریشن کا مجموعی سرپلس فی الحال سود کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی کی وجہ سے برقرار ہے۔
نئے ایکچوریل تخمینوں اور مالیاتی اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملازمین کی ریاستی بیمہ کارپوریشن یعنی ای ایس آئی سی کے فوائد پر اٹھنے والے اخراجات آنے والے چار برسوں کے دوران کنٹریبیوشن سے حاصل ہونے والی آمدنی سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کارپوریشن اس وقت بھی مجموعی طور پر سرپلس میں ہے، جس کی بڑی وجہ سرمایہ کاری اور بینکوں سے ملنے والی سود کی آمدنی ہے، تاہم بنیادی آمدنی اور اخراجات کا توازن دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ طبی دیکھ بھال اور صحت کی سہولیات کی فراہمی پر آنے والے اخراجات اس صورتحال میں سب سے اہم عنصر مانے جا رہے ہیں۔ کارپوریشن کے تحت کام کرنے والے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ادویات، جدید طبی آلات اور علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے فنڈز پر بوجھ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بیمہ شدہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں اخراجات آمدنی کی شرح سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کارپوریشن کی جانب سے دی جانے والی مختلف اقسام کی نقد امداد، بشمول بیماری، زچگی اور معذوری کے فوائد بھی اس مالیاتی توازن کو متاثر کر رہے ہیں۔ پالیسی سازوں اور مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سود کی آمدنی کی بدولت فوری طور پر مالی بحران کا کوئی خطرہ نہیں ہے، تاہم طویل المدتی بنیادوں پر اس رجحان کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ تنخواہوں اور اجرتوں کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ کنٹریبیوشن کی وصولی کے نظام کو مزید موثر بنانا بھی ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مستقبل میں فنڈز کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ کارپوریشن کے حکام اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں، جن میں وسائل کا بہترین استعمال اور انتظامی اخراجات میں کمی شامل ہے۔ ملازمین کے مفادات کا تحفظ اور طبی خدمات کے معیار کو برقرار رکھنا ای ایس آئی سی کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے فنڈز کے نظم و نسق کو مزید بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھی جا رہی ہیں۔ آنے والے برسوں میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مالیاتی اصلاحات اور پالیسی کی سطح پر اہم فیصلے کیے جانے کا قوی امکان ہے۔