LIVE
Loading Breaking News...

این ویڈیا کے اے آئی فنانسنگ پلان اور ڈارک جی پی یو کا خطرہ

News Image
امریکی ٹیک ایڈوائزر ڈیوڈ ساکس نے انکشاف کیا ہے کہ این ویڈیا کے نئے مالیاتی منصوبے کو سب سے بڑا خطرہ مارکیٹ میں جی پی یو کی ممکنہ زائد رسد سے ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کے اے آئی فنانسنگ پلان کے تحت یہ خدشات موجود ہیں کہ سیمی کنڈکٹرز اثاثہ جات کی طرح غیر استعمال شدہ رہ سکتے ہیں۔
امریکی صدر کے سابق مشیر اور معروف ٹیک انویسٹر ڈیوڈ ساکس نے حال ہی میں این ویڈیا اور اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہانگ کے نئے مالیاتی اقدام پر گہرے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں کمپنی کی جانب سے ایک ایسا اقدام متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت جی پی یو ہارڈویئر کو مالیاتی سیکیورٹیز کی طرح ایک باقاعدہ اثاثہ کلاس میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس پچاس ارب ڈالر کے منصوبے کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔تاہم، ڈیوڈ ساکس نے اسٹریٹجک سطح پر خبردار کیا ہے کہ اس وسیع تر مالیاتی اور تکنیکی منصوبے کو سب سے بڑا خطرہ مارکیٹ میں ڈارک جی پی یو کی ضرورت سے زیادہ مقدار یا زائد رسد سے لاحق ہو سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب ہارڈویئر کو بڑے پیمانے پر فنانسنگ اور اثاثوں کی شکل دی جاتی ہے، تو طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اگر مارکیٹ میں چپ کی پیداوار اور طلب کے درمیان خلیج پیدا ہوئی، تو غیر استعمال شدہ یا چھپے ہوئے جی پی یو سرمایہ کاروں کے لیے مالی بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے غلبے کے لیے بڑی ٹینک کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ این ویڈیا کا یہ نیا ماڈل جہاں ایک طرف صنعت کو تیزی سے آگے بڑھانے کا وعدہ کرتا ہے، وہیں دوسری طرف ماہرین اسے مالیاتی خطرات سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ ڈیوڈ ساکس کا یہ تجزیہ ٹیک انڈسٹری میں جاری اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ آیا اے آئی کا موجودہ مالیاتی ماڈل پائیدار بھی ہے یا نہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ این ویڈیا اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتی ہے اور مارکیٹ اس نئے اثاثہاتی ماڈل کو کس حد تک قبول کرتی ہے۔