World
یوکرین کے روس پر ڈرون حملے، چھ افراد ہلاک
یوکرین کی جانب سے روس پر جنگ کے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ ان حملوں کا نشانہ بنیادی طور پر روسی علاقے بالخصوص ماسکو اور توور اوبلاست بنے ہیں۔
یوکرین نے روس کے خلاف جنگ کے دوران اپنی سب سے بڑی فضائی کارروائیوں میں سے ایک کا آغاز کرتے ہوئے سینکڑوں ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان فضائی حملوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ دارالحکومت ماسکو کے نواحی علاقوں سمیت کئی اہم تنصیبات کو خطرات لاحق ہو گئے اور دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق توور اوبلاست میں ڈرون حملے کے بعد مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جہاں اکیلے اس علاقے میں پانچ افراد کی ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو کے نواحی علاقوں میں بھی ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ روسی وزارت دفاع اور مقامی گورنرز کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں ڈرونز بھیجنا ایک غیر معمولی اور خطرناک اقدام ہے جس سے عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
روسی فضائی دفاعی نظام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تاہم گرنے والے ملبے کی وجہ سے رہائشی علاقوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ دوسری جانب کیف کی طرف سے اس تازہ ترین اور وسیع پیمانے پر کیے جانے والے حملے کے بارے میں براہ راست فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ حملے یوکرین کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے وہ جنگ کو براہ راست روسی سرزمین پر لے جانا چاہتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس کشیدگی میں اضافے کے بعد خطے میں جنگ کے مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس طویل تنازع میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال جنگ کا رخ بدل رہا ہے، اور شہری آبادی کے مراکز پر اس طرح کے حملے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی حل کے امکانات کو مزید تاریک کر رہے ہیں۔ صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور روسی سکیورٹی ادارے مزید کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔