World
امریکہ ایران جنگ بندی معاہدہ ختم، مشرق وسطیٰ میں تناؤ
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کو ہے جبکہ تنازعہ کے حل کے لیے کوئی نیا معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور الزامات کے بعد خطے میں نئی سفارتی اور دفاعی خلیج پیدا ہو گئی ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی عارضی فائر بندی اور مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی مدت اب اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ڈیڈ لائن کے گزر جانے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تنازعہ کے حل کے لیے کوئی بھی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں ایک بار پھر محاذ آرائی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سفارتی ناکامی کے بعد مشرق وسطیٰ کے اہم اور حساس بحری گزرگاہوں اور دفاعی امور پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
ایرانی حکام کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ فریقین کے مابین طے پانے والی ساٹھ دن کی ڈیڈ لائن اب اپنی اہمیت کھو چکی ہے، اور اس کی بنیادی وجہ امریکہ کی جانب سے مبینہ طور پر مفاہمت کی یادداشت کی مسلسل خلاف ورزیاں ہیں۔ تہران کا دعویٰ ہے کہ امریکی اقدامات نے اس عارضی امن معاہدے کے ماحول کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد اب صورتحال کو سنبھالنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر اس پیشرفت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے خطے میں مزید فوجی کشیدگی بھڑک سکتی ہے۔
اس صورتحال نے علاقائی ممالک بالخصوص ترکی اور دیگر خلیجی ریاستوں کو بھی فکرمند کر دیا ہے، جو پہلے ہی اس کشیدگی کے معاشی اور سلامتی سے جڑے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نئے دفاعی خطوط اور علاقائی صف بندیوں کی تیاریوں کے پیش نظر سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دونوں فریقین کو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر فوری طور پر کوئی نیا سفارتی راستہ تلاش نہ کیا گیا تو یہ تنازعہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پوری عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے بھی شدید خطرہ بن سکتا ہے۔