LIVE
Loading Breaking News...

اینڈرائیڈ سیکیورٹی اور اینٹی وائرس کی ضرورت

News Image
سال 2025 کے دوران گوگل کے اینڈرائیڈ سیکیورٹی سسٹم نے کروڑوں خطرناک خطرات کو بروقت روک دیا۔ اس شاندار کارکردگی کے بعد اب ماہرین بحث کر رہے ہیں کہ کیا اسمارٹ فونز کے لیے علیحدہ اینٹی وائرس ایپ کی ضرورت باقی رہی ہے یا نہیں۔
گوگل کے موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کے بلٹ ان حفاظتی نظام نے سال 2025 کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر میں تقریباً 27 ملین یعنی دو کروڑ ستر لاکھ سیکیورٹی خطرات اور خطرناک ایپلی کیشنز کو کامیابی کے ساتھ بلاک کر دیا۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد تکنیکی ماہرین اور صارفین کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا موجودہ دور میں اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز کے اندر کسی تھرڈ پارٹی یا علیحدہ اینٹی وائرس ایپ کو انسٹال کرنے کی واقعی ضرورت ہے یا نہیں۔ روایتی طور پر سمارٹ فون صارفین اپنے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف کمپنیوں کی اینٹی وائرس ایپس پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ تاہم، حالیہ اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گوگل کا اپنا ڈیفالٹ پروٹیکشن سسٹم اب کہیں زیادہ جدید، تیز رفتار اور موثر ہو چکا ہے جو صارفین کو نقصان دہ سافٹ وائرز سے محفوظ رکھتا ہے۔ دوسری طرف، سائبر سیکیورٹی کے کچھ ماہرین کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ اگرچہ گوگل کا بلٹ ان سسٹم عام نوعیت کے میلویئر اور وائرسز کو روکنے میں انتہائی ماہر ہے، لیکن پیچیدہ فشنگ حملوں، جدید اسپائی ویئر اور غیر محفوظ وائی فائی نیٹ ورکس سے مکمل تحفظ کے لیے ایک اضافی حفاظتی تہہ یعنی معیاری اینٹی وائرس کا استعمال اب بھی مکمل طور پر غیر ضروری نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ، صارفین کی اپنی ڈیجیٹل عادات اور پلے اسٹور کے باہر سے اے پی کے فائلز (APKs) ڈاؤن لوڈ کرنے کا رجحان بھی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ انہیں اضافی سیکیورٹی کی کتنی ضرورت ہے۔ بالآخر، عام صارفین کے لیے جنہیں ٹیکنالوجی کی گہری سمجھ نہیں ہے، اینڈرائیڈ کا اپنا سیکیورٹی میکانزم اب روزمرہ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی حد تک خود کفیل ثابت ہو رہا ہے۔