World
عراقی کردستان کے وزیراعظم کے دفتر پر ڈرون حملہ
عراقی کردستان کے وزیراعظم کے دفتر اور سکیورٹی چیف کی رہائش گاہ کو دھماکہ خیز ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خوش قسمتی سے اس حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں ایک بڑے سکیورٹی واقعے کے دوران وزیراعظم مسرور بارزانی کے دفتر اور خطے کے سکیورٹی چیف کی رہائش گاہ کو دھماکہ خیز ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب خطے میں کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے اور حساس تنصیبات پر حملوں کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ حملے بارود سے لیس ڈرونز کے ذریعے کیے گئے تھے جن کا مقصد اہم سرکاری عمارات کو نقصان پہنچانا اور سکیورٹی کی صورتحال کو خراب کرنا تھا۔ حملے کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر مورچہ سنبھال لیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس خطرناک کارروائی کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم حملے کی جگہ پر کچھ مادی نقصان ضرور پہنچا ہے۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور متعلقہ ادارے ڈرون لانچ کرنے والے عناصر کا سراغ لگانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس حملے کے بعد بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس طرح کے حملے خطے کے استحکام کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ عراقی کردستان میں اس قسم کے ڈرون حملے سکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں اور اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ فضائی دفاعی نظام کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی تخریب کاری کی کارروائیوں کو بروقت روکا جا سکے۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور سکیورٹی ایجنسیاں اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہ ڈرونز کہاں سے روانہ کیے گئے تھے اور ان کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہیں۔