LIVE
Loading Breaking News...

انڈیانا خالصتان ریفرنڈم: پنوں کا شملہ کو مجوزہ دارالحکومت بنانے کا اعلان

News Image
امریکہ کی ریاست انڈیانا میں منعقدہ نام نہاد خالصتان ریفرنڈم کے دوران سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے ایک متنازع اعلان کیا ہے۔ پنوں نے بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے دارالحکومت شملہ کو خالصتان کا مجوزہ دارالحکومت قرار دیا ہے۔
امریکہ کی ریاست انڈیانا میں حال ہی میں منعقد ہونے والے نام نہاد خالصتان ریفرنڈم کے دوران کالعدم تنظیم سکھ فار جسٹس کے جنرل کونسلر گرپتونت سنگھ پنوں نے ایک نیا اور انتہائی متنازع اعلان کیا ہے۔ اس ریفرنڈم کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پنوں نے بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے معروف سیاحتی شہر شملہ کو مبینہ خالصتان کا مجوزہ دارالحکومت قرار دیا ہے۔ اس اعلان نے ایک بار پھر سفارتی حلقوں اور بھارتی میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اس سے قبل خالصتان تحریک کے حامیوں کی جانب سے اس نوعیت کے مخصوص علاقائی دعوے سامنے نہیں آئے تھے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں سکھ فار جسٹس کی جانب سے طویل عرصے سے خالصتان کے قیام کے لیے اس طرح کے علامتی ریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت ان تمام سرگرمیوں کو شدت پسندی اور ملکی سلامتی کے خلاف قرار دیتی ہے، جب کہ منتظمین کا مؤقف ہے کہ یہ ایک پرامن اور جمہوری انداز میں رائے شماری کا عمل ہے۔ انڈیانا میں ہونے والی اس تازہ ترین ووٹنگ میں بھی بڑی تعداد میں شرکاء نے حصہ لیا، جہاں تنظیم کے رہنماؤں نے بھارت کے خلاف اپنی سیاسی اور نظریاتی مہم کو مزید تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ گرپتونت سنگھ پنوں کی جانب سے شملہ کو مجوزہ دارالحکومت قرار دینے کے اس بیان کو تجزیہ کار انتہائی معنی خیز قرار دے رہے ہیں۔ ہماچل پردیش کا یہ دارالحکومت بھارت کے شمال میں واقع ایک اہم حساس خطہ ہے، اور اس کو خالصتان کے नक्شه میں شامل کرنے کا اعلان دراصل نئی دہلی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ہونے والے ان ریفرنڈمز کی بین الاقوامی سطح پر کوئی قانونی حیثیت تسلیم نہیں کی گئی ہے، تاہم یہ موضوعات بھارت اور ان ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اکثر بحث کا محور بنے رہتے ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے ماضی میں بھی ایسے ریفرنڈمز اور بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ نئی دہلی کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ مغربی حکومتوں کو اپنی سرزمین پر بھارت مخالف عناصر اور علیحدگی پسند رہنماؤں کو کھلی چھوٹ نہیں دینی چاہیے۔ دوسری جانب، امریکہ اور مغربی ممالک آزادیِ اظہارِ رائے کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس قسم کے پرامن اجتماعات اور رائے شماری کو قانون کے دائرے میں اجازت دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس نئے اعلان کے بعد بھارت اور سکھ علیحدگی پسندوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔