LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی ریکارڈز اور ٹروتھ سوشل کے بیانات

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ سرکاری بیانات صدارتی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان ریکارڈز کی حفاظت کو یقینی بنانا سرکاری اور قانونی تقاضا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر جاری کیے جانے والے سرکاری بیانات اب ایک اہم قانونی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی یہ تازہ ترین منصوبہ بندی دراصل صدارتی ریکارڈ رکھنے کے روایتی اور قانونی نظام پر ایک وسیع حملہ ہے۔ ایسے بیانات جو حکومتی امور، اہم ترین محصولات یعنی ٹیرفس، ایران کے خلاف دھمکیوں یا کابینہ میں تبدیلیوں جیسے معاملات کا احاطہ کرتے ہیں، قانونی طور پر صدارتی ریکارڈ کہلاتے ہیں اور ان کا عوامی یا سرکاری ریکارڈ کا حصہ بننا لازمی ہے۔ صدارتی ریکارڈز کے قوانین کے مطابق صدر کے ہر اس بیان کو محفوظ کیا جانا چاہیے جو ملکی پالیسی یا حکومتی فیصلوں سے متعلق ہو۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کیے جانے والے اعلانات کو صدارتی ریکارڈ سے الگ رکھنا یا ان کی باقاعدہ دستاویز بندی نہ کرنا شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس سے نہ صرف تاریخی ریکارڈ متاثر ہوتا ہے بلکہ عوام اور قانون ساز اداروں کا سرکاری فیصلوں تک رسائی کا حق بھی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ماہرینِ قانون کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں صدارتی مواصلات کی ہیئت تبدیل ہو چکی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی قانونی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ اس معاملے پر آنے والے دنوں میں مزید قانونی بحث اور سیاسی گرما گرمی متوقع ہے کیونکہ ناقدین صدارتی احتساب اور ریکارڈ کی درستگی کو جمہوریت کا بنیادی ستون قرار دیتے ہیں۔