LIVE
Loading Breaking News...

اتوار کے مطالعے: انشورنس پالیسیوں کے مسائل اور ناکامیاں

News Image
موجودہ دور میں انشورنس کمپنیوں کی جانب سے دعوے مسترد کرنے کے رحجان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کار حادثے کی صورت میں پالیسی ہولڈرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اتوار کی صبح کے اس خصوصی جائزے میں ہم ان اہم اور گمبھیر مسائل پر روشنی ڈال رہے ہیں جو معاشرے میں بدعنوانی، نااہلی اور پالیسی کی ناکامیوں کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں۔ آج کا سب سے بڑا موضوع انشورنس کمپنیوں کا وہ طرزِ عمل ہے جس کے تحت کار حادثات کی صورت میں دعوے ادا کرنے سے انکار کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ شہریوں کی جانب سے مہنگی پالیسیاں خریدنے کے باوجود وقت پر مدد نہ ملنا ایک بہت بڑا المیہ بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے ڈرائیورز اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہوں نے جو پالیسی خریدی ہے وہ ہر قسم کے حادثے یا نقصان کا احاطہ کرتی ہے، لیکن جب حقیقت میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو انشورنس کمپنیاں مختلف قانونی اور تکنیکی حربے استعمال کرکے دعوے کو مسترد کر دیتی ہیں۔ اس سے نہ صرف متاثرہ افراد ذہنی کوفت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کی مالی حالت بھی تباہ ہو جاتی ہے کیونکہ انہیں اپنی جیب سے مرمت اور علاج کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس صورتحال نے حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں جو ان مالیاتی اداروں کی من مانیوں کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ شہریوں کا انشورنس کے نظام پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے جو کہ مجموعی معیشت اور معاشرتی تحفظ کے لیے ایک خطرناک علامت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس شعبے میں شفافیت لائی جائے اور پالیسی ہولڈرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔