LIVE
Loading Breaking News...

جنریشن زی کی حمایت میں ٹیک جائنٹ ایچ پی کے ایگزیکٹو کا بیان

News Image
ایچ پی کے ایک اعلیٰ ایگزیکٹو نے جنریشن زی کے خلاف کام چور ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بہترین سننے والا اور تعلقات بنانے والا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان پیشہ ور افراد کام کی جگہ پر مثبت تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
سترہ ارب ڈالر کی مالیت رکھنے والی معروف ترین ٹیک جائنٹ کمپنی ایچ پی (HP) کے ایک سینیئر ایگزیکٹو نے حالیہ دنوں میں جنریشن زی (Gen Z) کے خلاف ہونے والی تنقید پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو سست یا روایتی دفتری اصولوں سے ناواقف قرار دینے والے ناقدین کے مؤقف کو غلط ثابت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نوجوان پیشہ ورانہ مہارتوں سے مالامال ہیں اور دفاتر میں بہترین انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاریخی طور پر ہر نئی نسل کو اپنے سے بڑی نسل کی طرف سے کام کے روایتی طریقوں کو نہ اپنانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور آج کل جنریشن زی بھی ایسے ہی چیلنجز سے نبردآزما ہے۔ کچھ باسز اور سینئر مینیجرز کی جانب سے اکثر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ نوجوان نسل دفتری آداب سے ناواقف ہے اور وہ محض اپنے آرام کو ترجیح دیتی ہے۔ تاہم، ایچ پی کے اس ذمہ دار عہدیدار نے اس منفی بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ جنریشن زی کے نوجوان نہ صرف اپنے کام میں مخلص ہیں بلکہ وہ بات چیت کرنے اور دوسروں کو سننے کی صلاحیت میں بھی بے حد آگے ہیں۔ یہ نسل اپنے ساتھیوں کے ساتھ مضبوط پیشہ ورانہ اور باہمی تعلقات استوار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جو جدید کارپوریٹ کلچر کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ دور میں جب دفتری ماحول تیزی سے بدل رہا ہے اور ریموٹ ورک یا ہائبرڈ ماڈلز عام ہو رہے ہیں، جنریشن زی نے ان تمام تبدیلیوں کو انتہائی احسن طریقے سے اپنایا ہے۔ ان کا کام کرنے کا انداز روایتی سوچ سے مختلف ضرور ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ غیر سنجیدہ ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں پروان چڑھنے والی یہ نسل مسائل کا حل تلاش کرنے میں ماہر ہے اور اپنی نئی سوچ کی بدولت اداروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آخر میں، ایچ پی کے اس بیان کے بعد کارپوریٹ دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا روایتی دفتری اصولوں کو ہی حتمی ماننا چاہیے یا پھر نوجوان نسل کی نئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ایگزیکٹو کا یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑی کمپنیاں اب نوجوانوں کی اہمیت کو سمجھ رہی ہیں اور تنقید کے بجائے ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکے۔