LIVE
Loading Breaking News...

برین کا N219 طیارے اور فلائنگ ایمبولینس پر کام

News Image
انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن ایجنسی (BRIN) ملک میں اڑنے والی ایمبولینس کے وژن کو حقیقت بنانے کے لیے N219 طیارے اور اس کے اتفائی ورژن کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد دور دراز کے علاقوں میں طبی سہولیات اور ہنگامی امداد کی فراہمی کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔
جکارتا: انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن ایجنسی (BRIN) کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں اڑنے والی ایمبولینس کے بڑے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے N219 طیارے اور اس کے ایمفیبیئس (Amphibious) یعنی پانی اور زمین دونوں پر اترنے والے ورژن (N219A) کے معاون ماحولیاتی نظام کو تیزی سے ترقی دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ملک کے دور دراز، جزیرہ نما اور دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے افراد تک بروقت طبی امداد اور صحت کی ہنگامی سہولیات کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کے مطابق، یہ طیارہ خاص طور پر ایسے خطے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں زمینی راستوں سے سفر کرنا انتہائی مشکل یا ناممکن ہوتا ہے۔ N219 طیارے کی یہ صلاحیت کہ یہ مختصر اور کچے رن وے پر بھی باآسانی اتر سکتا ہے، اسے ہنگامی طبی امداد اور ریسکیو آپریشنز کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتی ہے۔ مزید برآں، اس کا ایمفیبیئس ویرینٹ سمندری پانی اور جھیلوں پر بھی لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے انڈونیشیا کے ہزاروں جزائر کے درمیان رابطہ مزید بہتر ہو جائے گا۔ ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے مقامی انڈونیشین صنعتوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے تاکہ طیارے کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشنل لاگت کو کم رکھا جا سکے۔ اڑنے والی ایمبولینس کا یہ منصوبہ نہ صرف ملک کے صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کرے گا بلکہ انڈونیشیا کی ہوابازی کی صنعت کو بھی ایک نئی بلند پرواز عطا کرے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس نظام کی آزمائشی پروازیں شروع ہوں گی جو اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوں گی۔