Politics
جنوبی ایشیا میں جے این زیڈ تحریک اور نوجوانوں کا سیاسی کردار
جنوبی ایشیا بھر میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریکیں خطے کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا میں نوجوانوں کے اٹھائے گئے قدم نے روایتی حکمران طبقے اور آمرانہ سوچ کو شدید چیلنج کیا ہے۔
جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی ابھرتی ہوئی تحریکیں جنہیں 'جے این زیڈ' کا نام دیا جا رہا ہے، نے خطے کی سیاست میں ایک نیا باب رقم کر رکھا ہے۔ بھارت میں بھی طلباء اور نوجوانوں کا یہ احتجاج اگرچہ حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، لیکن اس نے ایک سخت گیر اور دباؤ ڈالنے والے نظام کو ضرور چیلنج کیا ہے۔ پیپر لیک ہونے کے اسکینڈلز اور تعلیمی نظام کی خامیوں سے شروع ہونے والا یہ احتجاج تیزی سے ایک بڑی جمہوری تحریک میں تبدیل ہو گیا جس نے لاکھوں نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ اس تحریک کے نتیجے میں وفاقی وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا جو موجودہ بھارتی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہوا۔ اس تمام صورتحال نے جہاں حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے ہیں، وہیں نوجوانوں نے روایتی سیاست سے ہٹ کر نئے سیاسی پلیٹ فارمز کی بنیاد بھی رکھی ہے جو بنیادی حقوق اور جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ دوسری طرف اگر پورے جنوبی ایشیا کا جائزہ لیا جائے تو یہ صورتحال صرف بھارت تک محدود نہیں ہے بلکہ بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا میں بھی نوجوانوں نے سڑکوں پر آ کر آمرانہ اور بدعنوان حکومتوں کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والا طلباء کا احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے ایک ملک گیر عوامی سیلاب بن گیا جس نے بالآخر حسینہ واجد کی طویل حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اسی طرح نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی اور کرپشن کے خلاف اٹھنے والی نوجوانوں کی آواز نے پوری سیاسی بساط الٹ دی، اور دسیوں افراد کی ہلاکتوں کے بعد حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سری لنکا کا 'ارگلیا' یعنی جدوجہد کا وہ باب بھی سب کے سامنے ہے جہاں معاشی بدحالی اور خاندانی راج کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے اور صدر کو ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ تمام واقعات خطے کے دیگر ممالک بالخصوص پاکستان کے لیے بھی ایک بڑا اشارہ اور سبق ہیں۔ پاکستان میں بھی نوجوان آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ موجود ہے جو بیروزگاری، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل کا شکار ہے۔ اگر وقت پر بنیادی حقوق کی بحالی اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ آبادی جو کہ کسی بھی ملک کے لیے ایک ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ بن سکتی ہے، کسی بھی وقت ایک بڑے بحران یا تباہی میں بدل سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا کی موجودہ سیاسی تبدیلیوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب نوجوان نسل اپنے حقوق کے حصول کے لیے روایتی خوف سے آزاد ہو چکی ہے اور وہ ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھانا بخوبی جانتی ہے۔