Technology
اے آئی چیٹ بوٹس اور تنہائی کا تعلق: ایک نئی تحقیق
نئی سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ چیٹ بوٹس سے بات چیت کرنے سے وقتی طور پر اچھا محسوس ہو سکتا ہے لیکن طویل المدت میں یہ انسان کی تنہائی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی گفتگو حقیقی انسانی روابط کا متبادل نہیں بن سکتی۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، جہاں ایک طرف چیٹ بوٹس کو لوگوں کے ساتھ بات چیت اور دوستی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف ماہرین نے اس کے منفی اثرات سے خبردار کیا ہے۔ میونخ میں کی گئی ایک حالیہ طبی اور معاشرتی تحقیق کے مطابق، اگرچہ اے آئی چیٹ بوٹ سے گفتگو کرتے وقت وقتی طور پر انسان کو اچھا محسوس ہو سکتا ہے اور وہ خود کو کم تنہا سمجھتا ہے، لیکن یہ عمل دراصل طویل مدتی تنہائی کو ختم کرنے میں ناکام رہتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں اسے مزید بڑھا دیتا ہے۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ جب افراد نے مختلف چیٹ بوٹس سے طویل گفتگو کی تو انہیں ابتدائی طور پر ایک ہم درد ساتھی ملنے کا احساس ہوا، لیکن یہ رشتہ مصنوعی ہونے کی وجہ سے انسان کی گہری جذباتی اور سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں اس قسم کے روابط انسان کو حقیقی دنیا کے سماجی تعلقات سے دور لے جاتے ہیں۔ جب لوگ حقیقی انسانوں کے بجائے مشینوں پر انحصار کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو وہ آہستہ آہستہ معاشرے سے کٹنے لگتے ہیں اور ان کی اندرونی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔
ماہرین نفسیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ چیٹ بوٹس انسان کو وہ سب کچھ کہتے ہیں جو وہ سننا چاہتا ہے، کیونکہ انہیں اسی طرح پروگرام کیا گیا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، حقیقی انسانی تعلقات میں اختلافات، بحث اور سمجھوتہ شامل ہوتا ہے جو انسان کی ذہنی پختگی اور حقیقی جذباتی تسکین کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اے آئی کی یہ مصنوعی تسلی انسان کو ایک ایسے دھوکے میں رکھتی ہے جہاں اسے لگتا ہے کہ اس کا کوئی دوست ہے، حالانکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
اس تحقیق کی روشنی میں ماہرین زور دے رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا استعمال اپنی حد تک ہی مفید ہے، لیکن اسے حقیقی انسانی روابط اور سماجی میل جول کا نعم البدل نہیں سمجھنا چاہیے۔ حکومتوں، ماہرین تعلیم اور نفسیات دانوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کس طرح نئی نسل کو اے آئی کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور اس سے جڑنے والے خطرناک جذباتی انحصار سے بچایا جائے۔ تنہائی کے اس عالمی مسئلے کا حل مصنوعی مشینوں میں نہیں بلکہ صحت مند انسانی معاشرت میں ہی پوشیدہ ہے۔