LIVE
Loading Breaking News...

چاند پر انسانی بستی: 2030ء کی دہائی میں خلا میں کام کرنے کا دعویٰ

News Image
وائجر اسپیس کے سی ای او ڈیلن ٹیلر نے پیشگوئی کی ہے کہ 2030ء کی دہائی کے دوران انسان چاند پر مستقل بیس قائم کر کے وہاں رہائش اور کام شروع کر دیں گے۔ وہ ایلون مسک، سام ألٹمین اور جیف بیزوس جیسے سرکردہ عالمی شخصیات کے اس نظریے سے متفق ہیں کہ انسانیت کا مستقبل خلا سے جڑا ہوا ہے۔
دنیا کی معروف خلائی کمپنیوں اور ارب پتی شخصیات کا خیال ہے کہ انسانیت کا اگلا بڑا قدم زمین سے باہر خلا میں ہوگا۔ حالیہ بیانات کے مطابق، وائجر اسپیس (Voyager Space) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیلن ٹیلر نے دعویٰ کیا ہے کہ 2030ء کی دہائی کے دوران انسان چاند پر نہ صرف سفر کریں گے بلکہ وہاں باقاعدہ رہائش پذیر بھی ہوں گے اور کام کا آغاز کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں چاند پر ایک فعال بیس قائم کر لیا جائے گا جہاں انسانوں کی آمد و رفت روزمرہ کا معمول بن جائے گی۔ یہ پیشگوئی دیگر عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی رہنماؤں جیسے کہ ایلون مسک، سام ألٹمین اور جیف بیزوس کے خیالات سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔ یہ تمام شخصیات طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتی چلی آ رہی ہیں کہ زمین کے محدود وسائل پر انحصار کم کرنے اور انسانی بقاء کو یقینی بنانے کے لیے خلائی نوآبادیات ناگزیر ہیں۔ اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک مریخ کی تسخیر کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس خلا میں بڑے پیمانے پر صنعتی اور انسانی سرگرمیوں کے فروغ پر زور دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں اور خلائی اداروں کے مابین بڑھتے ہوئے مسابقتی رحجان کی وجہ سے ٹیکنالوجی میں بے پناہ تیزی آئی ہے۔ راکٹ سازی کے اخراجات میں کمی اور ری یوز ایبل ٹیکنالوجی کے فروغ نے خلائی سفر کو حقیقت کے زیادہ قریب کر دیا ہے۔ چاند پر بیس بننے سے نہ صرف سائنسی تحقیق کو نئے دروازے کھلیں گے بلکہ خلائی سیاحت اور معدنیات کی تلاش کے نئے معاشی دور کا بھی آغاز ہوگا۔ اگرچہ اس ہدف کو پانے کے لیے تاحال بے شمار تکنیکی اور حفاظتی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں تابکاری سے بچاؤ اور لائف سپورٹ سسٹمز کی بہتری شامل ہے، تاہم ڈیلن ٹیلر اور دیگر صنعت کاروں کا عزم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ زمین سے باہر انسانی بستیاں اب محض سائنس فکشن نہیں رہیں۔ آنے والی دہائی میں ہم ایک ایسی دنیا دیکھنے کے لیے تیار ہیں جہاں خلا میں کام کرنا اور چاند پر سفر کرنا عام شہریوں کے لیے بھی ممکن ہو سکے گا۔