Health
بلی کالڈویل 21 برس کے ہو گئے، طبیق بھنگ قانون کا پس منظر
شدید قسم کی ملاسے کی بیماری میں مبتلا بلی کالڈویل اکیس سال کے ہو گئے ہیں جنہوں نے طبیق بھنگ سے متعلق قوانین میں تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کی والدہ کے مطابق اب وہ صحت مند زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے دوروں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
شمالی آئرلینڈ کے علاقے کاسٹل ڈیرگ سے تعلق رکھنے والے بلی کالڈویل (Billy Caldwell) اپنی زندگی کی دو دہائیاں عبور کرتے ہوئے اکیس سال کے ہو گئے ہیں۔ بلی کالڈویل کو مرگی کی ایک انتہائی شدید اور جان لیوا قسم لاحق تھی، جس کی وجہ سے انہیں ماضی میں روزانہ سینکڑوں خطرناک دورے پڑتے تھے۔ ان کی اس بیماری نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی تھی اور ان کی والدہ کی طویل جدوجہد کے بعد طبی مقاصد کے لیے بھنگ کے استعمال سے متعلق قوانین میں تاریخی تبدیلیاں لائی گئی تھیں۔ آج جب وہ اکیس برس کے ہو چکے ہیں، تو ان کی صحت میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ طویل قانونی جنگ اور علاج کے کٹھن مراحل کے بعد اب ان کے بیٹے کی زندگی ایک پرسکون اور بہتر نہج پر گامزن ہے۔ طبیق بھنگ کے قوانین میں تبدیلی سے نہ صرف بلی کالڈویل بلکہ دنیا بھر کے ان ہزاروں مریضوں کو ریلیف ملا جو اسی طرح کی پیچیدہ بیماریوں کا شکار تھے۔ ماہرین صحت اور قانون سازوں کے نزدیک بلی کا یہ سفر طبی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے روایتی علاج سے ہٹ کر متبادل طریقوں کے دروازے کھولے۔ آج ان کی 21 ویں سالگرہ کے موقع پر دنیا بھر میں ان کے مداح اور مریضوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک فرد کی پرعزم جدوجہد کیسے پوری دنیا کے قوانین کو بدل سکتی ہے۔