World
بچی کو زہریلی ادویات دینے والی خاتون کو قید، عدالت کا فیصلہ
ایک برطانوی خاتون کو کم سن بچی کو بالغ افراد کی دوائیں کھلا کر قتل کی کوشش کرنے کے جرم میں سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت نے مجرمہ لورا ڈوچرٹی پر زندگی بھر کے لیے سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
برطانیہ کی ایک عدالت نے کم سن بچی کو بالغ افراد کی خطرناک ادویات زبردستی کھلا کر اسے قتل کرنے کی کوشش کرنے کے سنگین جرم میں ملوث خاتون لورا ڈوچرٹی کو قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے جج نے اس مکروہ اور ہولناک جرم پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مجرمہ کو زندگی بھر کے لیے کڑی پابندیوں کا سامنا کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت پر یہ بات واضح کی گئی کہ لورا ڈوچرٹی نے انتہائی چالاکی اور سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معصوم بچی کو ایسی دوائیں دیں جو صرف بالغوں کے استعمال کے لیے مخصوص ہیں اور بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس نوعیت کے اقدامات نے نہ صرف بچی کی زندگی کو خطرے میں ڈالا بلکہ طبی ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا کہ کس طرح کوئی شخص ایک بے زبان اور بے گناہ بچے کے ساتھ اس حد تک بے رحمی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران جج نے اپنے ریمارکس میں اس فعل کو انتہائی شرمناک اور بدترین جرائم میں سے ایک قرار دیا۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور طبی رپورٹس نے مجرمہ کے خلاف جرم کو مکمل طور پر ثابت کر دیا، جس کے بعد بچی کے تحفظ اور معاشرے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے یہ سخت فیصلہ سنایا گیا۔ عدالت کے اس حکم کے تحت مجرمہ پر عمر بھر کے لیے ایسے سخت احکامات لاگو کر دیے گئے ہیں جو اسے مستقبل میں کسی بھی بچے کے قریب جانے یا اس طرح کی حرکت کرنے سے سختی سے روکتے ہیں۔ اس واقعے نے مقامی کمیونٹی اور والدین میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور بچوں کے تحفظ کے اداروں نے ایک بار پھر بچوں کی نگہداشت اور ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔