LIVE
Loading Breaking News...

کیا دنیا میں زلزلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے؟ اہم اعداد و شمار

News Image
الجزیرہ نے زلزلے کے ایک دہائی کے اعداد و شمار کا جائزہ لے کر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ سال پچھلے سالوں کے مقابلے میں کیسا ہے۔ اس تحقیق میں زلزلوں کے آنے کی وجوہات اور ان کے وقوع پذیر ہونے والے اہم مقامات کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران دنیا بھر میں آنے والے زلزلوں کے حوالے سے عام لوگوں میں یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا زمین کے اندر حرکیات میں تیزی آ گئی ہے اور کیا دنیا میں پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ زلزلے آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ نے گزشتہ ایک دہائی کے زلزلوں کے اعداد و شمار کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ موجودہ سال زلزلیاتی سرگرمیوں کے اعتبار سے پچھلے برسوں سے کتنا مختلف ہے۔ یہ تجزیہ سائنسدانوں اور ماہرین ارضیات کے ان اعداد و شمار پر مبنی ہے جو دنیا بھر میں زلزلوں کی پیمائش کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔ اعداد و شمار کے اس تفصیلی جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگرچہ بعض اوقات بڑے زلزلے انسانوں کو زیادہ خوفزدہ کر دیتے ہیں، لیکن دنیا بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے زلزلوں کا ایک مستقل اور متواتر رجحان موجود ہے۔ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس ہمیشہ حرکت میں رہتی ہیں اور ان کی اس مسلسل گھماؤ اور رگڑ کے نتیجے میں توانائی خارج ہوتی ہے جو زلزلوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی اور حساس آلات کی وجہ سے اب چھوٹے سے چھوٹا زلزلہ بھی فوری طور پر ریکارڈ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ زلزلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ حقیقت میں ریکارڈنگ کے نظام میں بہتری آئی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ دنیا کے کون سے خطے زلزلوں کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس ہیں۔ بحر الکاہل کا وہ خطہ جسے 'رنگ آف فائر' کہا جاتا ہے، دنیا بھر کی زلزلیاتی سرگرمیوں کا مرکز مانا جاتا ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے اور آتش فشاں پھٹنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایشیا اور یورپ کے کچھ حصوں میں بھی فالٹ لائنز کی موجودگی کی وجہ سے زمین اکثر لرزتی رہتی ہے۔ سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ زلزلوں کی پیشگوئی کرنا تو تاحال ممکن نہیں ہے، تاہم ان خطرات سے نمٹنے کے لیے عمارتوں کے ڈیزائن میں بہتری اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ انسانی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔