LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ میں شوہر پر تشدد کی ملزمہ پی ایچ ڈی خاتون کی ضمانت کی درخواست

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے شوهر پر تشدد کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والی ایک پی ایچ ڈی ہولڈر خاتون نے عبوری ضمانت کے لیے رجوع کر لیا ہے۔ عدالت نے درخواست پر سماعت کے لیے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اسلام آباد میں گھریلو ناچاقی اور مبینہ تشدد کا ایک انوکھا اور پیچیدہ قانونی معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک پی ایچ ڈی ہولڈر خاتون نے اپنے ہی شوہر پر تشدد کرنے کے الزامات کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی قبل از گرفتاری درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت سماجی اور قانونی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون پر اپنے شریکِ حیات کے ساتھ جسمانی تشدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ درخواست گزار خاتون کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے برعکس ہیں۔ ان کے وکلاء نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گھریلو تنازعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور ان کی مؤکلہ کو سیاسی یا ذاتی رنجش کی بنیاد پر اس مقدمے میں الجھایا گیا ہے۔ خاتون کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں اور قانون کا احترام کرتی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے متعلقہ جج نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور اس حوالے سے مزید کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ عدالت نے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کا مکمل ریکارڈ پیش کریں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مقدمے میں عائد کردہ دفعات کتنی درست ہیں۔ عدالت کی جانب سے آئندہ چند روز میں اس کیس کی باضابطہ سماعت متوقع ہے جس میں دونوں اطراف کے وکلاء اپنے دلائل مزید واضح کریں گے۔ دوسری جانب، متاثرہ شوہر کے وکلاء کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ قانون کو ہاتھ میں لیا جائے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ملزمہ خاتون کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جائے تاکہ شفاف طریقے سے انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس کیس نے ملک بھر میں گھریلو تشدد اور قانون کے نفاذ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جس پر قانونی ماہرین بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔