World
یوکرین جنگ: مغربی فوجی تربیت میں ڈرون اور الیکٹرانک وارفیئر کو کیوں نکالا گیا
مغربی اتحادیوں کی جانب سے یوکرین کے فوجیوں کے لیے شروع کیے گئے نئے تربیتی پروگرام میں ڈرون اڑانے اور الیکٹرانک وارفیئر کے اسباق شامل نہیں کیے گئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یوکرین اس شعبے میں خود اس قدر مہارت حاصل کر چکا ہے کہ وہ خود مغربی ٹرینرز کو سکھانے کی پوزیشن میں ہے۔
یوکرین کے فوجیوں کے لیے تیار کردہ ایک نئے مغربی تربیتی پروگرام کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں ڈرون پائلٹنگ اور الیکٹرانک وارفیئر جیسے جدید جنگی علوم پر توجہ نہیں دی گئی۔ دنیا بھر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جدید جنگی میدان میں سب سے اہم سمجھے جانے والے ان دو شعبوں کو تربیت سے کیوں باہر رکھا گیا، جبکہ اتحادی ممالک یوکرین کو ہر ممکن فوجی مدد فراہم کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے دفاعی ماہرین اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یوکرین کی افواج اس وقت ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کی تیاری میں اس حد تک ماہر ہو چکی ہیں کہ وہ خود اس میدان میں سب سے آگے ہیں۔ میدانِ جنگ کے تلخ تجربات نے یوکرین کو ڈرون پائلٹنگ اور الیکٹرانک وارفیئر کا ایسا استاد بنا دیا ہے کہ مغربی ٹرینرز کے لیے اس شعبے میں یوکرین کو سکھانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
نتیجتاً، مغربی تربیتی مشنز اپنی توجہ روایتی جنگی حکمت عملی، لاجسٹکس، اور دیگر عسکری امور پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں، جہاں یوکرین کو بیرونی مدد کی زیادہ ضرورت ہے۔ ڈرون کے محاذ پر یوکرین کی اپنی مہارت اور صلاحیت اتنی مستحکم ہو چکی ہے کہ وہ خود اپنے تجربات اتحادی ممالک کے ساتھ شیئر کر رہا ہے، جو کہ جدید جنگی تاریخ میں ایک انوکھا اور غیر معمولی رجحان ہے۔