Business
ملازمت کی تلاش اور عمر کی قید: ستاون سالہ شخص کی مشکلات
روچیسٹر نیویارک سے تعلق رکھنے والے ستاون سالہ گریگوری بروکس اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں نوکری کی تلاش کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس مضمون میں عمر رسیدہ افراد کو ملازمت کے حصول میں پیش آنے والے ذہنی دباؤ اور چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
نیویارک کے شہر روچیسٹر سے تعلق رکھنے والے ستاون سالہ گریگوری بروکس ان دنوں ایک ایسے کٹھن دور سے گزر رہے ہیں جس کا سامنا آج کل بہت سے عمر رسیدہ پیشہ ور افراد کو کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طویل اور کامیاب کیریئر کے بعد جب انہیں دوبارہ ملازمت کی ضرورت پیش آئی تو انہیں احساس ہوا کہ موجودہ دور میں نوکری کا حصول کتنا مشکل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمر میں روزگار کی تلاش نہ صرف معاشی بلکہ نفسیاتی طور پر بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے جہاں ہر روز ناکامی کے بعد تذلیل اور شدید گھبراہٹ کے جذبات ابھرتے ہیں۔ گریگوری کے مطابق، جب وہ مختلف اداروں میں درخواستیں بھیجتے ہیں تو انہیں یا تو کوئی جواب نہیں ملتا یا پھر عمر کی زیادہ حد کو ایک غیر اعلانیہ رکاوٹ کے طور پر سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان کی مالی سلامتی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ان کے اندرونی اعتماد کو بھی سخت ٹھیس پہنچا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید کارپوریٹ کلچر میں عمر رسیدہ ملازمین کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ رویہ ایک خاموش بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گریگوری بروکس کا یہ تجربہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ تجربہ کار اور ضعیف العمر افراد کو آج بھی مارکیٹ میں کس قدر سنگین تعصبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور انہیں روزگار کے حصول کے لیے کس حد تک ذہنی و جسمانی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔