Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل
امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سست پڑنے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جیو پولیٹیکل کشیدگی اور ٹینکرز پر حملوں نے خطے میں توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا سست پڑنا ہے۔ انتہائی اہم سمندری گزرگاہ پر سست روی اور خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے توانائی کی بین الاقوامی سپلائی چین شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کے اثرات براہ راست عالمی اقتصادی منڈیوں پر پڑ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ٹینکرز پر ممکنہ خطرات اور امن کی امیدوں کے مدھم ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
تجزیاتی رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم رگ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں، جب جہاز رانی کا عمل متاثر ہوتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اخراجات اور وقت دونوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ماہرین یہ بھی واضح کر رہے ہیں کہ قریبی مدت میں تیل کی قیمتوں میں مزید بڑے اضافے کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں، تاہم فی الحال جغرافیائی سیاسی تناؤ اور قیاس آرائیوں پر مبنی تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے برینٹ آئل کی قیمتیں بلند سطح کے قریب ہی برقرار ہیں۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کے اس بگڑتے ہوئے صورتحال نے دنیا بھر کی بڑی معیشتوں کے لیے مہنگائی کے نئے خدشات کو جنم دے رکھا ہے۔ صنعتی اور تجارتی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی تعطل کو جلد ختم نہ کیا گیا تو یہ صورتحال عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کو مزید اوپر دھکیل سکتی ہے۔ حکومتیں اور متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔