LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان سکیورٹی اپڈیٹ: ڈی ایس پی شہید اور مزدور اغوا

News Image
صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے پے در پے پرتشدد حملوں اور اغوا کی وارداتوں کے دوران ایک ڈی ایس پی سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس دوران مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے متعدد مزدوروں کو بھی اغوا کر لیا۔
صوبہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بدامنی اور دہشت گردی کے پے در پے واقعات میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد مزدوروں کو اغوا کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلا بڑا واقعہ ضلع بارکھان میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد کے حملے کے نتیجے میں ایک ڈی ایس پی اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔دوسری جانب صوبے کے دوسرے حصوں بالخصوص کیچ اور خضدار میں بھی بدامنی کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دیے۔ اطلاعات کے مطابق ضلع کیچ کے قریب مسلح افراد نے ایک شاہراہ پر زبردست ناکہ بندی کی اور گزرنے والی گاڑیوں کو روکا۔ مسلح افراد نے کارروائی کے دوران سات محنت کشوں اور مزدوروں کو زبردستی اغوا کر لیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ اس واقعہ نے علاقے کے عوام اور مزدور طبقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جو روزگار کی تلاش میں ان علاقوں میں مقیم ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے اغوا کیے جانے والے مزدوروں کی بازیابی کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے کر ناکہ بندی کر رکھی ہے اور چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ان تمام دلخراش واقعات کے پیش نظر صوبے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم تنصیبات، شاہراہوں اور حساس مقامات پر گشت بڑھا دیا ہے۔ مقامی سول سوسائٹی اور سیاسی حلقوں نے بلوچستان میں بڑھتے ہوئے امن و امان کے بحران اور اس طرح کی پرتشدد کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے فوری اور غیر معمولی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ صوبے میں مستقل پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔