World
نیپالی کانگریس منحرف دھڑا رپورٹس منظور اور ششانک کو ذمے داری
نیپالی کانگریس کے منحرف دھڑے نے کاٹھمندو میں اپنے قومی اجتماع کے دوران ترامیم کے ساتھ پانچ اہم رپورٹس کی منظوری دے دی ہے۔ دریں اثنا، دیوبا دھڑے کی جانب سے جنرل کنونشن کے انعقاد کی ذمے داری ششانک کو سونپ دی گئی ہے۔
کاٹھمندو میں نیپالی کانگریس کے منحرف دھڑے کا قومی اجتماع انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوا، جہاں پارٹی کے اندرونی معاملات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس اہم اجتماع کے دوران مندوبین کی جانب سے متفقہ طور پر پانچ اہم رپورٹس میں ترامیم کے ساتھ منظوری دی گئی، جو پارٹی کی نئی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
اجتماع کے دوران سیاسی تجویز سابق نائب صدر وملی نندرا ندھی کی جانب سے پیش کی گئی جبکہ تنظیمی تجویز بھی دیگر اہم رہنماؤں کے توسط سے سامنے آئی۔ ان تجاویز پر شرکاء کے درمیان سیر حاصل گفتگو ہوئی اور پارٹی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے کے لیے تجاویز کو حتمی شکل دی گئی۔ منحرف دھڑے کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے پارٹی میں جمہوریت کو فروغ دینے اور نچلی سطح پر تنظیمی امور کو بہتر کرنے کے لیے ناگزیر تھے۔
دوسری جانب، نیپالی کانگریس کے دیوبا دھڑے نے بھی سیاسی سرگرمیوں کو تیز کرتے ہوئے آئندہ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ دیوبا دھڑے نے باضابطہ طور پر جنرل کنونشن کے انعقاد کی اہم ذمے داری ششانک کو سونپ دی ہے تاکہ پارٹی کے اندرونی نظام کو مضبوط کیا جا سکے اور تمام دھڑوں کے ساتھ مل کر آئندہ کے لائحہ عمل پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
موجودہ سیاسی منظر نامے میں ان تبدیلیوں کے بعد نیپالی کانگریس کے اندر اندرونی رسہ کشی اور سیاسی جوڑ توڑ میں تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں دھड़ों کے یہ حالیہ اقدامات ملک کی مجموعی سیاست اور آئندہ کے انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، جبکہ پارٹی کارکنان اپنی قیادت سے اتحاد اور مضبوطی کی توقع لگائے بیٹھے ہیں۔