World
ایران کا امریکی فوجیوں کی گرفتاری یا ہلاکت پر تیس ہزار ڈالر انعام کا اعلان
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی میں اضافے کے دوران امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے والے افراد کے لیے تیس ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی اور عسکری کشیدگی کا نتیجہ ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت ایک نیا موڑ آ گیا جب ایرانی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے والے افراد کے لیے تیس ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا گیا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں عسکری سرگرمیاں عروج پر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان الفاظ کی جنگ بھی تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے حساس بحری راستے پر کنٹرول اور خطے میں امریکی موجودگی کے حوالے سے تہران کا موقف انتہائی سخت ہو چکا ہے۔
ایرانی عسکری کمانڈروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے پانیوں اور ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے جواب میں تہران کی جانب سے یہ جارحانہ بیانیہ اور انعام کا اعلان خطے میں امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی مسلح جھڑپ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ اتحادی ممالک دونوں جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ تہران کی جانب سے اس طرح کے پیغامات اور انعامات کے اعلانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران خطے میں امریکی عسکری موجودگی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اس کا بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بحران کے مزید سنگین ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ سفارتی راستے فی الحال بند دکھائی دے رہے ہیں۔