World
افغان طالبان کی پانچ سالہ حکومت پر عالمی میڈیا کی تنقید اور تشویش
بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں نے افغان طالبان کی پانچ سالہ غیر منتخبہ حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ اقوام متحدہ اور مختلف ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں لڑکیوں کی تعلیم اور عالمی سطح پر رابطوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
افغان طالبان کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر بین الاقوامی میڈیا، ممتاز خبر رساں اداروں اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے کڑی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ دی اکنامسٹ، دی گارڈین اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سمیت دنیا بھر کے مؤقر جریدوں نے اپنی حالیہ رپورٹس میں طالبان کی غیر منتخبہ طرزِ حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا کے کچھ حصوں میں طالبان کے ساتھ سفارتی و تجارتی روابط بڑھانے کے مباحثے ہو رہے ہیں، تاہم جمہوری دنیا کے لیے ان سے باضابطہ اور مکمل انگیجمنٹ ایک کڑا امتحان بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف نے اپنی تازہ ترین اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سن 2021 سے لے کر اب تک افغانستان میں ڈھائی ملین سے زائد یعنی 26 لاکھ سے زائد لڑکیوں کو ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس پابندی نے افغان معاشرے کے مستقبل کو سخت تاریک بنا دیا ہے اور نوجوان نسل خاص طور پر طالبات شدید ذہنی کوفت اور مایوسی کا شکار ہیں۔ بی بی سی اور دیگر عالمی چینلز پر نشر ہونے والی افغان خواتین کی کہانیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ انتہائی کٹھ پتلی اور جبر کے ماحول میں بھی اپنے روشن مستقبل اور تعلیمی حقوق پر یقین رکھتی ہیں اور دنیا سے مسلسل امید لگائے بیٹھی ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے یا ان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے سے مشروط کیا جانا چاہیے، جس میں سب سے اہم شرط خواتین اور بچیوں کے حقوق بالخصوص تعلیم اور روزگار کی بحالی ہونی چاہیے۔ تاہم، طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے فی الحال اس محاذ پر کوئی خاطر خواہ مثبت تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے، جس کی وجہ سے افغان عوام بالخصوص خواتین میں بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔