Business
سنرجی کو کی جانب سے امریکی خام تیل کی درآمدات میں اضافہ
آبنائے ہرمز میں ممکنہ ترسیلی رکاوٹوں کے خدشات کے پیش نظر پاکستانی ریفائنری سنرجی کو نے امریکی خام تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ قدم ملک کی توانائی کی ضروریات کو مستحکم رکھنے اور تیل کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پاکستان کی ایک اہم تیل ریفائنری 'سنرجی کو' (Cnergyico) نے آبنائے ہرمز کے راستے ترسیل میں ممکنہ خلل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ سے خام تیل کی درآمدات میں خاطر خواہ توسیع کر دی ہے۔ دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی چین کو درپیش چیلنجز اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیش نظر یہ فیصلہ انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور کسی بھی ناگہانی بحران سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری کرنا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اس اہم بحری راستے پر پیدا ہونے والی صورتحال نے کئی ممالک کو اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے پر مجبور کر دیا ہے، اور پاکستان بھی اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ سنرجی کو کے اس قدم سے ملکی سطح پر تیل کی درآمد کے متبادل ذرائع کو تقویت ملے گی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کسی حد تک متوازن رکھا جا سکے گا۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ اس تنوع سے نہ صرف ریفائنری کا آپریشنل تسلسل برقرار رہے گا بلکہ صارفین کے لیے بھی ایندھن کی قیمتوں اور دستیابی میں استحکام آئے گا۔ پاکستان کی معیشت کے لیے توانائی کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور خام تیل کی درآمدات میں اس طرح کی تبدیلی ملکی توانائی کی سلامتی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر ریفائنریز کو بھی اس نوعیت کے اقدامات پر غور کرنا چاہیے تاکہ ملکی سطح پر توانائی کے ذخائر کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اقتصادی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔