LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدر ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ جنگی مشقیں محدود کرنے کا فیصلہ

News Image
امریکی صدر نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے جس کی بڑی وجہ سیئول کی ایران کے خلاف جنگ میں حمایت سے گریز ہے۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات بھی اس فیصلے کا ایک اہم محرک ہیں۔
امریکی صدر نے حال ہی میں ایک اہم فیصلے کے تحت جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے دائرہ کار کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عالمی سیاسی اور عسکری حلقوں میں بحث کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، کیونکہ یہ اقدام خطے میں امریکہ کے روایتی سکیورٹی اتحادوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں سیئول کی طرف سے ایران کے خلاف امریکہ کی حالیہ جنگی مہم میں کھل کر ساتھ نہ دینا اور غیرجانبدارانہ رویہ اختیار کرنا بتایا جا رہا ہے۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان دہائیوں سے دفاعی تعلقات استوار ہیں اور دونوں ممالک خطے میں ممکنہ جارحیت کے خلاف باقاعدگی سے بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں منعقد کرتے آئے ہیں۔ تاہم، موجودہ امریکی انتظامیہ کے مطابق، اسٹریٹجک ترجیحات میں تبدیلی اور اتحادی ممالک کی جانب سے تعاون میں ہچکچاہٹ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ فوجی وسائل کو نئے سرے سے منظم کیا جائے۔ اس تناظر میں جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں کو کم کرنا محض ایک عسکری قدم نہیں بلکہ ایک سیاسی اشارہ بھی ہے۔ اس فیصلے کے پس منظر میں شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں بھی کارفرما ہیں۔ امریکی صدر نے شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ اپنے ذاتی اور دوستانہ تعلقات کا کھل کر اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ تناؤ کو کم کرنے کے لیے روایتی طریقوں کے علاوہ براہ راست سفارت کاری بھی ناگزیر ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جنگی مشقوں میں کمی کے اس فیصلے سے کورین پینسولا میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، اگرچہ اس سے خطے کے دیگر حلیف ممالک میں تحفظات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے دور رس نتائج برآمد ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ اقدام محض ایک وقتی حکمت عملی ہے یا امریکی خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ بہرحال، ٹرمپ کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ روایتی عسکری اتحادوں کو اپنے مخصوص سیاسی اور سفارتی اہداف کے تابع رکھنا چاہتے ہیں۔