World
اسرائیل میں مذہبی دائیں بازو کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
اسرائیل میں مذہبی بنیاد پرستی ملکی اداروں میں گہرائی تک سرایت کرتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی آزادیوں کا دائرہ تنگ اور عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ رجحان ملکی سیاسی اور سماجی منظرنامے کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔
اسرائیل کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں ایک گہری تبدیلی رونما ہو رہی ہے جہاں مذہبی دائیں بازو کے گروہ اندرونی طور پر ریاست کی پالیسیوں اور اداروں کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر رہا ہے اور اس کے اثرات روزمرہ کی زندگی پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مذہبی بنیاد پرستی کا یہ بڑھتا ہوا سفر ریاستی اداروں کے اندر سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں روایتی اور سیکولر اقدار کے لیے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ اس پیشرفت کے دوران ملک کے کئی اہم شعبوں میں مذہبی نظریات کو فوقیت دی جا رہی ہے جو ماضی میں زیادہ متوازن سمجھے جاتے تھے۔ اس تبدیلی کا سب سے نمایاں اثر عام شہریوں کی آزادیوں پر پڑ رہا ہے، جن کا دائرہ کار بتدریج تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ حقوقِ نسواں، اقلیتوں کے حقوق اور ذاتی آزادیوں سے متعلق معاملات میں قدامت پسندانہ سوچ کو فروغ مل رہا ہے، جو کہ معاشرے کے ایک بڑے طبقے کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کیا ہے بلکہ ملک کے اندرونی توازن کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس عمل کا ایک اور اہم پہلو معاشی اور سماجی عدم مساوات میں اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی وسائل اور پالیسیوں کی تقسیم میں نظریاتی ترجیحات کو سامنے رکھا جا رہا ہے، جس سے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان خلیج مزید گہری ہو رہی ہے۔ ایک طرف جہاں مذہبی گروہ اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے میں مصروف ہیں، وہیں دوسری طرف سیکولر اور اعتدال پسند حلقے اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، ریاستی اداروں میں گہری جڑیں پکڑ جانے کی وجہ سے اس رجحان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں اسرائیل کی اندرونی سیاست کا یہ رخ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس تبدیلی کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں اسرائیل کی جمہوری ساخت کو طویل المدتی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ریاست کے اندرونی ڈھانچے میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ اسرائیل اپنے قیام کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے فکری اور نظریاتی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اس کا مستقبل سیکولر اقدار اور مذہبی بنیاد پرستی کے درمیان کشمکش کا محتاج بنتا جا رہا ہے۔