LIVE
Loading Breaking News...

جیسن آرڈے کی موت اور ادارہ جاتی نسل پرستی کا تنازع

News Image
برطانوی معاشرے اور تعلیمی اداروں میں سیاہ فام افراد کے خلاف بڑھتے ہوئے نسلی امتیاز نے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جیسن آرڈے کی دردناک موت کو مختلف حلقوں کی طرف سے ایک ادارہ جاتی قتل قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی معاشرے میں نسلی امتیاز اور تعصب کے حوالے سے ایک انتہائی دردناک اور ہوشربا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں جیسن آرڈے کی موت کو محض ایک حادثہ یا قدرتی موت نہیں بلکہ باقاعدہ ایک ادارہ جاتی قتل قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جیسن آرڈے کو ایک طویل عرصے تک انتہائی خطرناک اور شرمناک حد تک تعصب آمیز مہم کا نشانہ بنایا گیا جو کہ بنیادی طور پر سیاہ فام مخالف نسل پرستی یعنی اینٹی بلیک ریسزم پر مبنی تھی۔ اس گھناؤنی مہم نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا بلکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ذہنی سکون کو بھی شدید نقصان پہنچایا، جو آخر کار ان کی المناک موت پر منتج ہوئی۔ سماجی انصاف کے لیے کام کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اداروں میں اب بھی گہرے تعصبات جڑ پکڑے ہوئے ہیں۔ جیسن آرڈے کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کس طرح منظم طریقے سے اقلیتوں اور بالخصوص سیاہ فام افراد کو ہراساں کیا جاتا ہے اور انہیں ذہنی دباؤ کا شکار بنایا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں نے وقت پر اس زہریلی ماحول کے خلاف کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا، جس کی وجہ سے یہ المیہ رونما ہوا۔ اس واقعے کے بعد سے برطانیہ بھر میں تعلیمی اداروں اور دفاتر میں کام کرنے والے ماحول کو بہتر بنانے اور نسلی امتیاز کے خلاف زیرو ٹالیرینس کی پالیسی اپنانے کے مطالبات زور پکڑ چکے ہیں۔ عوام اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سے عناصر اور ادارہ جاتی کوتاہیاں اس المناک انجام کی ذمہ دار ہیں۔ جیسن آرڈے کی موت نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ جدید دور میں بھی رنگ و نسل کی بنیاد پر ہونے والا امتیاز انسانی جانوں کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔