Technology
پاکستان کا پہلا زرعی فضلے سے توانائی کا پلانٹ، برطانوی گرانٹ منظور
برطانوی حکومت نے پاکستان میں زرعی فضلے کو صاف توانائی میں تبدیل کرنے والے پہلے بڑے پیمانے کے پلانٹ کی تعمیر کے لیے نارتھمبریا یونیورسٹی کے ماہرین کو 12.5 لاکھ پاؤنڈ کی خطیر رقم دی ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
برطانوی حکومت نے پاکستان میں زرعی فضلے کو صاف ستھری توانائی میں تبدیل کرنے والے ملک کے پہلے مکمل پیمانے کے پلانٹ کی تعمیر کے لیے نارتھمبریا یونیورسٹی کے ماہرین کو 12 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ کی گرانٹ سے نوازا ہے۔ یہ اہم اور اور نوعیت کا پہلا پروجیکٹ دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور ماحول کے شعبے میں تحقیق اور تعاون کو نئی بلندیوں پر لے کر جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان میں کسانوں کے لیے فصلوں کی باقیات سے ہونے والے فضلے کو کارآمد بنا کر ماحول دوست توانائی پیدا کرنا ہے۔
نارتھمبریا یونیورسٹی کے ماہرین ڈاکٹر شاہد رسول اور ڈاکٹر جبران خالق اس اہم منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں، جو برطانوی تعلیمی اداروں اور پاکستانی شراکت داروں کے مشترکہ تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پلانٹ کی تنصیب سے نہ صرف پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ کھیتوں میں زرعی فضلہ جلانے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی اور اسموگ کے سنگین مسائل کو کم کرنے میں بھی خاطر خواہ مدد حاصل ہو گی جو کہ خطے کے بڑے ماحولیاتی چیلنجز میں سے ایک ہیں۔
اس پراجیکٹ کے تحت ایک ایسا جامع نظام وضع کیا جا رہا ہے جو زرعی باقیات کو نہایت سائنسی اور جدید طریقوں سے بایو انرجی یا قابل تجدید توانائی میں تبدیل کرے گا۔ اس سے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور کسانوں کو زرعی فضلے سے اضافی آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی میسر آئے گا۔ برطانوی ماہرین کی ٹیم بہت جلد اس منصوبے پر عملی کام کا آغاز کرے گی جس میں پاکستانی جامعات اور تحقیقی ادارے بھی بھرپور معاونت فراہم کریں گے۔