LIVE
Loading Breaking News...

زیارت واقعہ تحقیقاتی کمیشن: بلوچستان حکومت کا عوامی نوٹس جاری

News Image
حکومت بلوچستان نے زیارت میں پیش آنے والے المناک واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک خصوصی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے جس کا مقصد تمام حقائق کو سامنے لانا ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام اور عوام کی آگاہی کے لیے باضابطہ عوامی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
حکومتِ بلوچستان نے صوبے کے سیاحتی مقام زیارت میں پیش آنے والے المناک واقعے کی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے تشکیل دیے جانے والے انکوائری کمیشن کے حوالے سے باضابطہ طور پر ایک اہم عوامی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد واقعے کے محرکات کا پتا لگانا اور ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے تاکہ اس قسم کے سانحات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ جاری کردہ نوٹس کے مطابق حکومت نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔ عوامی نوٹس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کمیشن کو مکمل اختیارات تفویض کیے گئے ہیں تاکہ وہ اس سانحے سے جڑے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس، متاثرہ خاندانوں اور اس واقعے سے متعلق کوئی بھی اہم معلومات یا شواہد رکھنے والے افراد کو یہ موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر کمیشن کے سامنے اپنی گواہی یا معلومات درج کروا سکیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ عوامی تعاون کے بغیر اس قسم کی تحقیقات کا دائرہ مکمل نہیں ہو سکتا، اس لیے اس عمل میں شفافیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کا خیرمقدم مختلف حلقوں کی طرف سے بھی کیا جا رہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف اصل حقائق عوام کے سامنے آئیں گے بلکہ مستقبل کے لیے حفاظتی تدابیر بھی مزید بہتر بنائی جا سکیں گی۔ صوبائی حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سفارشات کی روشنی میں فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ کمیشن جلد ہی اپنی کارروائی کا آغاز کر دے گا اور رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد زیارت واقعہ کے تمام تاریک پہلو بے نقاب ہو جائیں گے۔