LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات 2026: ن لیگ کی برتری اور سیاسی جماعتوں کے الزامات

News Image
آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے میرپور ڈویژن کی تیرہ میں سے نو نشستیں جیت لی ہیں۔ دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی نے مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر انتخابی نتائج معطل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے میرپور ڈویژن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کل تیرہ میں سے نو نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس انتخابی عمل کے دوران ووٹرز نے بڑی تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا، تاہم انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ انتخابی عمل کے فورا بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے میدان میں آتے ہوئے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ پولنگ کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اور نتائج میں مبینہ ردوبدل کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر انہوں نے انتخابی نتائج کی فوری معطل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شفافیت کے بغیر جاری ہونے والے نتائج عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہیں اور اس حوالے سے تمام آئینی و قانونی فورمز سے رجوع کیا جائے گا۔ دوسری جانب، حکومتی وزراء اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انتخابات کو مکمل طور پر آزاد، منصفانہ اور شفاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہوا اور عوام نے ن لیگ کی ترقیاتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وزراء نے زور دیا کہ شکست خوردہ جماعتیں اپنی ناکامی کا ملبہ اداروں اور شفاف انتخابی عمل پر ڈالنے کی روایت ترک کریں۔ اس تمام صورتحال کے دوران بعض علاقوں میں سیاسی کارکنوں کے مابین کشیدگی اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جس کی وجہ سے سیاسی ماحول مزید تلخ ہو گیا ہے۔ دونوں بڑی جماعتیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن، ایک دوسرے پر دھاندلی اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات عائد کر رہی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کو بھی مختلف حلقوں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔