World
برطانوی ڈرونز کا روس پر حملہ، بین الاقوامی سیاست میں ہلچل
یوکرین کی جانب سے روس کے خلاف جنگی حکمت عملی میں پہلی بار برطانیہ میں تیار کردہ ڈرونز کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس واقعے سے مغربی ممالک کی جنگ میں بڑھتی ہوئی شمولیت ظاہر ہوتی ہے جس سے خطے میں جیو پولیٹیکل صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازع میں اس وقت ایک نیا اور خطرناک موڑ آ گیا جب اطلاعات کے مطابق پہلی بار برطانیہ میں تیار کردہ ڈرونز کو روسی سرزمین کے اندر موجود فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کارروائی کو یوکرین کی عسکری حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے جنگ کے دائرہ کار میں توسیع کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک پہنچ سکتی ہے۔
اس حملے سے مغربی ممالک بالخصوص برطانیہ کی یوکرین کی جنگ میں براہ راست شمولیت اور عسکری امداد کی گہرائی کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یوکرین طویل عرصے سے مغربی اتحادیوں سے جدید عسکری سازوسامان اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم روسی حدود کے اندر برطانوی ساختہ ڈرونز کا استعمال اس تنازعے کی نوعیت کو یکسر بدل سکتا ہے۔ ماسکو پہلے ہی مغربی ممالک کو خبردار کرتا رہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے وہ اس جنگ میں براہ راست فریق بن رہے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
جغرافیائی اور سیاسی مبصرین کے مطابق، اس تازہ ترین حملے کے طویل المدتی جیو پولیٹیکل اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے نہ صرف روس اور مغرب کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس تنازع کا پھیلاؤ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سکیورٹی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ ماسکو اس حملے کا کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور مغربی اتحادی اپنے عسکری تعاون کی پالیسی میں کیا ردوبدل کرتے ہیں۔