Technology
گوگل اور اے ایم ڈی کی شراکت داری، اگلی نسل کے اے آئی ٹی پی یو کی تیاری
گوگل نے مصنوعی ذہانت کے اپنے دسویں نسل کے ٹینسر پروسیسنگ یونٹس (TPUs) کی تیاری کے لیے معروف چپ ساز ادارے اے ایم ڈی سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد ہائبرڈ اے آئی اے ایس آئی سی تیار کرنا ہے جو ری انفورسمنٹ لرننگ کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائے گا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی گوگل نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ذرائع کے مطابق گوگل نے اپنے دسویں نسل کے ٹینسر پروسیسنگ یونٹس یعنی ٹی پی یو (TPUs) کی تیاری کے لیے معروف چپ ساز کمپنی اے ایم ڈی (AMD) کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ تجزیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس نئے تعاون کا بنیادی مقصد ایک ایسا ہائبرڈ اے آئی اے ایس آئی سی (ASIC) تیار کرنا ہے جو جدید ترین ری انفورسمنٹ لرننگ کے تقاضوں کو بخوبی پورا کر سکے۔
اس مجوزہ ہائبرڈ ڈیزائن میں اے ایم ڈی کے طاقتور سی پی یو کورز کو براہ راست چپ پر شامل کیے جانے کا امکان ہے، جو کہ گوگل کی کمپیوٹنگ صلاحیتوں میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوگی۔ اب تک گوگل اپنے ٹی پی یو ڈیزائنز میں اندرونی طور پر تیار کردہ سسٹمز پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم اے ایم ڈی کی جدید ٹیکنالوجی اور کورز کو شامل کرنے سے پروسیسنگ کی رفتار اور کارکردگی میں ناقابل یقین حد تک بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے درکار وسیع ڈیٹا اور پیچیدہ الگورتھمز کو سنبھالنے کے لیے یہ ہائبرڈ اپروچ انتہائی مددگار ثابت ہوگی۔
صحت، تعلیم، اور تجارتی سطح پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ہارڈ ویئر کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ گوگل کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی چپس کی دوڑ عروج پر ہے اور تمام بڑی کمپنیاں اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس شراکت داری سے نہ صرف گوگل کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملے گی بلکہ مارکیٹ میں حریف کمپنیوں کے مقابلے میں اس کی پوزیشن بھی مزید مستحکم ہو گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں کمپنیوں کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتا ہے جہاں گوگل کو اپنی مرضی کا جدید ہارڈ ویئر ملے گا وہیں اے ایم ڈی کو بھی دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ اور مارکیٹ میں پذیرائی حاصل ہوگی۔ آنے والے مہینوں میں اس تعاون کے مزید مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے جو کہ مستقبل کی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔