LIVE
Loading Breaking News...

بنائی اور کمپیوٹر پروگرامنگ کا تعلق: تاریخی پس منظر اور مستقبل کی ٹیکنالوجی

News Image
آج کی نوجوان نسل ڈیجیٹل اسکرینز سے دور ہو کر روایتی ٹیکسٹائل ہنر کی طرف مائل ہو رہی ہے جو کبھی کمپیوٹر پروگرامنگ کی بنیاد بنے تھے۔ یہ قدیم فن آج بھی جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کی ایجادات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بنائی اور کڑھائی جیسے قدیم روایتی ہنر کو آج کی نوجوان نسل یعنی جنریشن زی ایک بہترین اسکرین فری تفریح کے طور پر اپنا رہی ہے۔ لیکن کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ اس روایت کا جدید دنیا کی تشکیل اور کمپیوٹر پروگرامنگ کی تاریخ سے گہرا تعلق ہے۔ تاریخی اعتبار سے، بنائی کے کارناموں اور پیٹرنز نے ہی ابتدائی حساب کتاب اور خودکار مشینری کے لیے بنیادی اصول فراہم کیے تھے۔ جوزف میری جیکورڈ کا تیار کردہ جیکورڈ لوم (Loom) اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جس نے کپڑے میں پیچیدہ ڈیزائن بنانے کے لیے پنچ کارڈز کا استعمال کیا۔ یہ وہی پنچ کارڈز تھے جنہیں بعد میں ابتدائی کمپیوٹرز میں ڈیٹا اور ہدایات داخل کرنے کے لیے بنیاد بنایا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے کمپیوٹر سائنس نے ترقی کی، بنائی اور کوڈنگ کا رشتہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ خلائی تاریخ میں اپالو مشنز کے دوران میموری کور ویوز (Memory Core Weaves) تیار کرنے کے لیے بھی باقاعدہ بنائی کی تکنیک کا استعمال کیا گیا۔ ناسا کے اس پروجیکٹ میں خواتین نے تاروں کو ہاتھ سے بن کر کمپیوٹر کی یادداشت کے لیے ہارڈ ویئر تیار کیا تھا، جسے عام طور پر 'لوپ میموری' کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ٹیکسٹائل کا یہ قدیم فن کس طرح براہ راست خلائی سفر اور جدید کمپیوٹنگ کی کامیابی کا ضامن بنا۔ آج کے دور میں بھی بنائی کے اصولوں کو بھلایا نہیں گیا بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کی ایجادات میں نئے رنگ بھر رہے ہیں۔ انجینئرز اور سائنسدان اسمارٹ ٹیکسٹائلز، پہننے کے قابل ٹیکنالوجی (Wearable Tech)، اور لچکدار الیکٹرونکس تیار کرنے کے لیے ٹیکسٹائل کے انہی پرانے طریقوں سے مدد لے رہے ہیں۔ روایتی دھاگوں کی جگہ اب نینو ٹیکنالوجی اور سنکیٹیو فائبرز نے لے لی ہے جو جسمانی حرارت اور طبی اعداد و شمار کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، یہ امر انتہائی دلچسپ ہے کہ ایک طرف جہاں نوجوان ڈیجیٹل تھکن سے بچنے کے لیے بنائی کے روایتی ہنر کی طرف واپس آ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا بھی اپنے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے اسی قدیم فن کی طرف دیکھ رہی ہے۔ بنائی اور کمپیوٹنگ کا یہ انوکھا سنگم اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے پرانے اور نئے زاویے ہمیشہ ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں اور آنے والے وقت میں مزید حیرت انگیز ایجادات کا باعث بنیں گے۔