World
امریکہ ایران کشیدگی: ایرانی سخت گیروں کی طویل جنگ کی تیاریاں
بین الاقوامی سطح پر جاری امن مذاکرات کے پس منظر میں ایران کے سخت گیر حلقے امریکہ کے ساتھ طویل مدتی اور انتہائی کشرت طلب جنگ کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ یہ رپورٹس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے پیچیدہ ہوتے ہوئے منظر نامے کو ظاہر کرتی ہیں۔
بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں جاری امن مذاکرات اور مصالحتی کوششوں کے درمیان ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق ایران کے سخت گیر عناصر اندرونی طور پر امریکہ کے ساتھ ایک طویل اور زیادہ خرچ والی جنگ کے لیے بھرپور تیاری کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ سفارتی سطح پر تناؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف راستوں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم تہران کے بعض با اثر حلقے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی اور عسکری تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے کیونکہ ایک طرف جہاں مذاکرات کی میز پر معاملات کو حل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، وہیں دوسری طرف زمینی حقائق اور عسکری حکمت عملی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ فریقین کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے پہلے اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے بھی خطے میں اپنی موجودگی کو جانچا جا رہا ہے، جو اس تنازعہ کے طویل مدتی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی برادری اور خطے کے دیگر ممالک اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں اور یہ تنازعہ مزید ط طول پکڑا، تو اس کے معاشی اور جانی نقصانات پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ تیل کی رسد سے لے کر عالمی معیشت تک، ہر شعبہ اس کشیدگی کی زد میں آ سکتا ہے۔ ماہرینِ امورِ عالم کے مطابق آنے والے چند ہفتے اس بحران کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، کیونکہ فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی بدستور برقرار ہے۔