LIVE
Loading Breaking News...

یمن تنازعہ میں ڈرون جنگ اور فضائی طاقت کا استعمال

News Image
یمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان ڈرون حملوں کا تبادلہ جنگی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں فریقین اپنی بڑھتی ہوئی فضائی طاقت کو میدانِ جنگ میں بھرپور انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔
یمن میں جاری طویل خانہ جنگی کے دوران ایک بار پھر عسکری حکمت عملی میں ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں حوثی باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان ڈرون حملوں کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دونوں حریف فریقین اپنی بڑھتی ہوئی فضائی صلاحیتوں کا کھل کر مظاهرہ کر رہے ہیں، جس نے ملک کے اندر جاری اس تنازع کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ روایتی محاذ آرائی سے ہٹ کر اب جنگ کی نوعیت تکنیکی اور فضائی حملوں کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں اطراف سے ہونے والے ڈرون حملوں کے نتیجے میں عسکری اور دفاعی توازن میں نمایاں فرق آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ڈرون ٹیکنالوجی کی دستیابی اور اس کے آسان استعمال نے روایتی جنگ کے ضابطوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کم لاگت اور زیادہ نقصان کی صلاحیت رکھنے والے ان فضائی آلات نے کمزور فریقین کو بھی اپنے حریفوں پر برتری حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس کی وجہ سے یمنی محاذ پر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور امن کے لیے کوشاں ادارے اس نئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں میں اضافے سے نہ صرف جنگ بندی کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ جنگ کے اس نئے مرحلے میں دونوں فریقین کی جانب سے کسی بھی قسم کی لچک نہ دکھائے جانے کے باعث خطے میں امن کی امیدیں مزید مدہم پڑتی جا رہی ہیں۔