World
ٹرمپ کی عمان کو دھمکی، ایران ڈیل کا معاملہ سنگین
ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی نئے سمجھوتھے کی راہ میں حائل ہونے پر عمان کو شدید نتائج کی دھمکی دی ہے۔ امریکی اور بین الاقوامی سطح پر اس متنازع بیان پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا میں سامنے آنے والی ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ملک عمان کو ایران کے ساتھ مجوزہ ڈیل کی راہ میں رکاوٹ بننے کی صورت میں بم سے اڑانے کی دھمکی دی ہے۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے اس پر ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور خلیجی ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ سخت موقف اس وقت اختیار کیا جب عمان کی جانب سے مبینہ طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں یا ممکنہ ڈیل کے حوالے سے کچھ تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے سخت گیر سمجھی جاتی ہے، تاہم اس نوعیت کی دھمکیوں سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ عمان خطے میں ہمیشہ سے ایک پرامن ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور مختلف ممالک کے درمیان ثالثی میں اہم مقام رکھتا ہے، ایسے میں اس کے خلاف اس طرح کے بیانات سفارتی اصولوں کے منافی ہیں۔
دوسری جانب، تاحال وائٹ ہاؤس یا ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمانوں کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس دعوے میں صداقت ہوئی تو یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر سکتا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کی طرف سے بھی اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ کسی بھی خلیجی ملک کے خلاف اس طرح کی دھمکی پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
آنے والے دنوں میں اس رپورٹ کے مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قسم کے بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔ سفارتی ماہرین کا اس بات پر زور ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کو جنگی دھمکیوں کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے کے عوام کو مزید جنگ و جدل اور تباہی سے بچایا جا سکے۔