LIVE
Loading Breaking News...

واٹر سائبر شیلڈ ایکٹ اور سائبر سکیورٹی کے چیلنجز

News Image
امریکہ میں واٹر سائبر شیلڈ ایکٹ متعارف کرا دیا گیا ہے جس کا مقصد اہم آبی تنصیبات کی سکیورٹی کو بہتر بنانا ہے۔ ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ قانون سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔
امریکی سینیٹرز کی جانب سے حال ہی میں ایک نیا قانون 'واٹر سائبر شیلڈ ایکٹ' متعارف کروایا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (EPA) کو اضافی فنڈنگ اور جدید وسائل فراہم کرنا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ملک کے اہم آبی بنیادی ڈھانچے پر سائبر سکیورٹی کے جائزے لینے اور ممکنہ خطرات کا قبل از وقت تدارک کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔ حالیہ برسوں میں پانی کی فراہمی کے نظام پر سائبر حملوں کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر حکومتی سطح پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔تاہم، ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین اس قانون کی افادیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے ہیکرز اور سائبر مجرم جدید تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ قانون اس کے مقابلے میں بہت سست اور محدود ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ روایتی سرکاری طریقہ کار اور محدود فنڈنگ کے ذریعے اس نوعیت کے بڑے خطرات سے بروقت نمٹنا انتہائی مشکل ہو گا، بالخصوص جب نجی سطح کے سکیورٹی گروپس زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔دوسری جانب، کچھ تجزیہ کار یہ بھی تجویز کر رہے ہیں کہ اگر حکومت نجی سائبر گروپس اور ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرے تو نتائج زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں۔ نجی ادارے اکثر جدید ترین ٹیکنالوجی اور لچکدار حکمت عملی کے حامل ہوتے ہیں، جو سرکاری اداروں کے مقابلے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے زیادہ تیزی سے نبردآزما ہو سکتے ہیں۔ واٹر سائبر شیلڈ ایکٹ کے حوالے سے یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ آیا یہ قانون محض ایک کاغذی کارروائی ثابت ہوگا یا واقعی پانی کے نظام کو محفوظ بنانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔