World
ڈونلڈ ٹرمپ کی دور حکومت اور امریکی سائبر سکیورٹی کے چیلنجز
نیکسورا نیوز اردو کی اس خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق امریکی انتظامیہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے کس طرح ملک کے ڈیجیٹل دفاع کو کمزور کیا۔ ماہرین کے مطابق سائبر سکیورٹی کے شعبے میں درپیش چیلنجز اب بھی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
جنوری 2025 میں سینیٹ میں ہوم لینڈ سکیورٹی کی نامزد سیکرٹری کرسٹی نوم کی توثیق کے حوالے سے ہونے والی سماعت کے دوران، ان سے یہ اہم سوال پوچھا گیا کہ وہ ملک کے سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائیں گی۔ کرسٹی نوم نے سینیٹرز کو جواب دیا کہ وہ اس نازک شعبے میں اپنی تمام توجہ مرکوز کریں گی تاکہ امریکہ کو جدید ڈیجیٹل خطرات سے بچایا جا سکے۔ یہ سوال اس تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں سائبر سکیورٹی کے محاذ پر کس طرح کی پالیسیاں اپنائی گئیں اور ان کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔
ماہرین کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے گئے تھے جن پر بعد میں شدید تنقید کی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وفاقی سطح پر اہم اداروں میں تکنیکی ماہرین کی جگہ سیاسی تقرریوں اور پالیسی میں تبدیلیوں کی وجہ سے امریکی نظام کو بیرونی ہیکرز اور سائبر حملوں کے سامنے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا گیا۔ خاص طور پر سرکاری تنصیبات، انتخابی نظام اور حساس ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق امور میں جو خلاء پیدا ہوا، اس نے ملک کو بڑے پیمانے پر سائبر خطرات سے دوچار کیا۔
اس صورتحال نے نہ صرف ملکی سلامتی کے اداروں کو پریشان کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی امریکہ کی ساکھ کو متاثر کیا۔ غیر ملکی طاقتوں کی جانب سے مبینہ طور پر ہونے والے سائبر حملوں اور ڈیٹا چوری کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں روایتی دفاعی حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے۔ اب جبکہ نئی انتظامیہ اقتدار سنبھال رہی ہے اور کرسٹی نوم جیسی اہم شخصیات سے سخت سوالات کیے جا رہے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ اپنی سائبر سکیورٹی پالیسیوں میں خاطر خواہ اصلاحات کر پائے گا یا نہیں۔
امریکہ کو درپیش ان سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے کانگریس اور ہوم لینڈ سکیورٹی کو مشترکہ طور پر ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ نجی شعبے اور سرکاری اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے ڈیجیٹل بحران سے کامیابی کے ساتھ نمٹا جا سکے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ اگر پالیسی سازوں نے سائبر سکیورٹی کو نظر انداز کرنا جاری رکھا، تو ملک کو معاشی اور سکیورٹی کے اعتبار سے بہت بڑے نقصانات اٹھانا پڑ سکتے ہیں۔