LIVE
Loading Breaking News...

جারেڈ کشنر کی حماس رہنماؤں سے ملاقات اور ٹرمپ کا غزہ روڈ میپ

News Image
سابق امریکی صدر کے داماد جারেڈ کشنر نے حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی غزہ روڈ میپ کو مسترد کر دیا ہے۔
واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیر اور داماد جারেڈ کشنر نے حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد غزہ کے تنازع اور خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے مختلف تجاویز کا جائزہ لینا ہے۔ یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جারেڈ کشنر کی حماس کے رہنماؤں کے ساتھ یہ گفتگو انتہائی اہم نوعیت کی ہے کیونکہ وہ اس کے فوراً بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے جانے والے 15 نکاتی غزہ روڈ میپ کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس روڈ میپ میں غزہ میں کشیدگی کے خاتمے، انسانی امداد کی فراہمی اور طویل المدتی امن کے لیے کچھ بنیادی نکات پیش کیے گئے تھے جنہیں اسرائیلی حکام کی جانب سے رد کیا جا چکا ہے۔ اس تناظر میں جারেڈ کشنر کے ان دوروں اور ملاقاتوں کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشنر کا یہ دورہ پس پردہ سفارت کاری کا حصہ ہے تاکہ فریقین کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات کو کم کیا جا سکے۔ اگرچہ اسرائیل نے روڈ میپ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، لیکن واشنگٹن اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں اب بھی اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی ایسے متبادل لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے جو خطے میں خونریزی کو روک سکے۔ حماس کے ساتھ اس ملاقات کے بعد نیتن یاہو سے ہونے والی بات چیت کے نتائج آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔