LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی کی بانی چیئرمین کے ہارٹ ٹیسٹ میں تاخیر پر تنقید

News Image
پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین کے میڈیکل چیک اپ اور ہارٹ ٹیسٹ میں غیر ضروری تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ طبی عمل میں اس طرح کی تاخیر تشویشناک ہے اور ان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی کے بانی چیئرمین کے تجویز کردہ ہارٹ ٹیسٹ میں مبینہ تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی ترجمان اور رہنماؤں نے اس معاملے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی رپورٹس اور ڈاکٹروں کی واضح ہدایات کے باوجود ٹیسٹ کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قیدیوں کے بنیادی طبی حقوق کا احترام کیا جائے اور بغیر کسی تاخیر کے تمام ضروری ٹیسٹ مکمل کیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق طبی ماہرین نے بانی چیئرمین کے دل کے کچھ معائنے اور ٹیسٹ تجویز کیے تھے تاکہ ان کی صحت کی درست صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے اور بروقت علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ان ٹیسٹوں کے بروقت انعقاد میں مبینہ تاخیر نے نہ صرف پارٹی کارکنوں بلکہ ان کے اہلِ خانہ اور قانونی ٹیم کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال سے سیاسی ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہو رہا ہے، جو کہ حکومتی اداروں کی غیر ذمہ دارانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں مزید کہا گیا ہے کہ بانی چیئرمین کی صحت کے حوالے سے تمام متعلقہ حکام کو سنجیدہ ہونا چاہئے۔ انسانی بنیادوں پر کسی بھی قیدی کو اس کے بنیادی طبی حقوق سے محروم رکھنا قانون اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ پی ٹی آئی نے واضح کیا ہے کہ اگر ٹیسٹ اور علاج کے عمل کو مزید طول دیا گیا تو وہ ملک بھر میں قانونی اور سیاسی لائحہ عمل تیار کریں گے تاکہ اس اہم مسئلے پر آواز بلند کی جا سکے۔ علاوہ ازیں، قانونی ٹیم نے بھی اس معاملے پر عدالتی چارہ جوئی کا عندیہ دیا ہے تاکہ جیل میں قید رہنما کی صحت کی نگرانی کے لیے آزاد اور معتبر ڈاکٹروں کے پینل کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے طبی مسائل پر سیاسی رسہ کشی سے گریز کیا جانا چاہئے اور صحت جیسے حساس معاملے پر کسی قسم کی لاپرواہی یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے گریز کرنا ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔