LIVE
Loading Breaking News...

دفاتر میں ملازمین کی فلاحی پالیسیوں کا نفاذ اور ذہنی تناؤ

News Image
ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملازمین کام کی جگہ پر فلاحی پالیسیوں کے ناقص نفاذ کو بڑھتے ہوئے تناؤ کی بنیادی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دفاتر میں رسمی پالیسیوں کے موجود ہونے کے باوجود ان پر عملی طور پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی ایک بڑی تعداد نے کام کی جگہ پر ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق پالیسیوں کے ناقص نفاذ کو ذہنی تناؤ میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کمپنیوں کے پاس کاغذی طور پر تو فلاحی پالیسیاں موجود ہوتی ہیں، لیکن زمینی حقائق میں ان کا نفاذ انتہائی ناقص ہوتا ہے، جس کی وجہ سے پالیسیوں کے ہونے یا نہ ہونے کا کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق ملازمین کا کہنا ہے کہ بہت سے ادارے صرف دکھاوے کے لیے فلاحی اقدامات کا اعلان کرتے ہیں لیکن عملی طور پر کام کا دباؤ اور اوقات کار اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ملازمین کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے دفاتر میں ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے اور ملازمین کی کارکردگی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیاں اگر واقعی اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود چاہتی ہیں تو انہیں محض کاغذی پالیسیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے ان کے موثر نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے مینیجرز اور ایگزیکٹوز کو تربیت دینا بھی ضروری ہے تاکہ وہ کام کے دوران ملازمین کے ذہنی سکون اور ورک لائف توازن کا خیال رکھ سکیں اور کام کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔