Technology
سولر پاور کی قیمتوں میں کمی: تاریخ، سفر اور موجودہ صورتحال
سنہ 1956 میں سولر پاور کی قیمت مہنگائی کے تناسب سے 1865 ڈالر فی واٹ تک تھی جو خلائی جہازوں کی ضرورت کے باعث زندہ رہی۔ دہائیوں بعد قیمتیں 50 سینٹ فی واٹ سے بھی کم ہو گئی ہیں جس سے سولر دنیا کی سب سے سستی نئی بجلی بن چکی ہے۔
سولر پاور کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک وقت تھا جب سورج کی روشنی سے بجلی بنانا انتہائی مہنگا سودا تھا۔ سنہ 1956 میں مہنگائی کے تناسب سے سولر پاور کی قیمت تقریباً 1865 ڈالر فی واٹ تک پہنچتی تھی۔ اس ابتدائی دور میں سولر ٹیکنالوجی کو عام مارکیٹ میں پذیرائی حاصل نہیں تھی اور یہ زیادہ تر خلائی جہازوں یا خاص سائنسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھی جہاں ہلکے وزن کے حامل اور آزاد پاور سورسز کی اشد ضرورت ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی نے سائنسی تحقیقات کی بدولت نئے مدار طے کیے۔
دہائیوں پر محیط اس سفر میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور بڑے پیمانے پر پیداوار نے اس کی لاگت کو زمین بوس کر دیا۔ قیمتوں میں آنے والی اس ڈرامائی گراوٹ نے عالمی انرجی مارکیٹ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ جو ٹیکنالوجی کبھی صرف خلائی مشنز تک محدود تھی، وہ اب عام انسان کی پہنچ میں آ چکی ہے۔ محققین اور انجینئرز کی مسلسل محنت کی وجہ سے سولر پینلز کی تیاری کے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں قیمتیں ایک ڈالر کے بھی ایک چھوٹے سے حصے تک سمٹ گئیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ سولر پینلز کی قیمتیں پچاس سینٹ فی واٹ سے بھی نیچے آ چکی ہیں، اور بعض خطوں میں تو یہ اس سے بھی سستی دستیاب ہیں۔ قیمتوں میں اس زبردست کمی نے دنیا بھر میں توانائی کے منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سولر پاور دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار کا سب سے سستا اور قابلِ رسائی نیا ذریعہ بن چکی ہے، جس سے روایتی ایندھن پر انحصار کم ہو رہا ہے اور صاف ستھری توانائی کا انقلاب برپا ہو رہا ہے۔